8برس سے جنگلی غار میں رہنے والی روسی خاتون انسانوں سے خوفزدہ

کرناٹکا ( مانیٹرنگ ڈیسک بھارت کی ریاست کرناٹکا کے ساحلی علاقے گوکارنہ میں ایک دور دراز غار میں اپنی 2 کم سن بیٹیوں کے ساتھ رہنے والی روسی خاتون نینا کوٹینا نے اپنی گرفتاری کے بعد ایک جذباتی پیغام میں کہا ہے کہ ہمیں کبھی کسی جانور نے نقصان نہیں پہنچایا، ہم صرف انسانوں سے ڈرتے تھے۔نینا کوٹینا، جن کی عمر 40 سال ہے، اور ان کی دونوں بیٹیاں گزشتہ کئی برسوں سے فطرت کے قریب، انسانی معاشرے سے کٹ کر جنگل کے اندر ایک غار میں مقیم تھیں۔ پولیس کے مطابق خاتون کا ویزہ کئی برس پہلے ختم ہو چکا تھا اور دونوں بچیاں بھارت میں پیدا ہوئی تھیں۔پولیس نے انہیں زمین کھسکنے اور زہریلے سانپوں کے خطرے کے پیش نظر غار سے نکال کر پہلے ایک آشرم اور پھر کاروار کے خواتین مرکز منتقل کیا۔ پولیس نے خاتون اور بچوں کی ملک بدری کی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔نینا نے اپنے ایک قریبی دوست اور پولیس افسر کو واٹس ایپ پر روسی زبان میں ایک جذباتی پیغام بھیجا جس میں انہوں نے لکھاہمیں ایک ایسی جگہ لا کر رکھا گیا ہے جہاں آسمان نہیں، گھاس نہیں، آبشار نہیں، صرف ایک سخت، سرد فرش ہے جس پر ہم اب سوتے ہیں صرف بارش اور سانپوں سے بچا کے لیے۔ لیکن کئی برسوں پر محیط جنگل والی زندگی کے تجربے سے میں کہتی ہوں کہ کبھی کسی سانپ یا جانور نے ہمیں نقصان نہیں پہنچایا۔انہوں نے مزید کہابارش قدرت کا تحفہ ہے۔ بارش میں جینا، آرام دہ جگہ پر، ایک نعمت ہے۔ مگر ایک بار پھر برائی کامیاب ہوگئی۔نینا نے انسانی معاشرے کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن گھروں میں لوگ رہتے ہیں، وہاں بھی سانپ آ سکتے ہیں۔ بیت الخلا، باورچی خانہ، یہاں تک کہ ٹوائلٹ بال تک میں۔ان کے خیال میں جنگل میں سانپ قطاریں بنا کر حملہ کرتے ہیں۔ نو مہینے میں ہم نے صرف 4 سانپ دیکھے، وہ بھی سانپوں کے موسم میں۔یہ لوگ خوف اور لاعلمی کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی تجربہ یا علم نہیں، بس افواہوں اور بچگانہ کہانیوں پر یقین ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں