امتحانی ڈیوٹی پر اساتذہ سے اضافی ٹیکس کا انکشاف،FTOکا نوٹس

لاہور(بیو رو چیف)امتحانی مراکز میں فرائض انجام دینے والے اساتذہ پر اضافی اور غیر قانونی ٹیکس کٹوتیوں کا انکشاف ہوا ہے جس پر فیڈرل ٹیکس محتسب (FTO)نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ایف ٹی او کی جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد پروفیسرز، اساتذہ کی امتحانی ڈیوٹیوں کی ادائیگیوں سے ناجائز ٹیکس کٹوتی کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 149 کے تحت ان ادائیگیوں کو مجموعی آمدنی میں شامل کر کے ٹیکس لاگو کیا جانا چاہیے مگر متعلقہ ادارے اس قانون کو نظر انداز کر کے اساتذہ پر اضافی ٹیکس عائد کر رہے ہیں۔پنجاب یونیورسٹی اور لاہور بورڈ کے 55 ہزار سے زائد اساتذہ کے کیسز کا تفصیلی جائزہ ایف ٹی او نے شروع کر دیا ہے۔ ایف ٹی او کا مقف ہے کہ امتحانی ڈیوٹی پر دی جانے والی ادائیگیاں “اضافی آمدنی” کے زمرے میں نہیں آتیں کیونکہ اساتذہ یہ خدمات محکمہ تعلیم کی ہدایت پر سرانجام دیتے ہیں۔ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ایف ٹی او) نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اساتذہ کی بورڈ ڈیوٹی سرکاری فرائض کا تسلسل ہے جس پر علیحدہ سے ٹیکس لگانا غیر منصفانہ ہے۔ایف ٹی او کی جانب سے تمام متعلقہ تعلیمی بورڈز اور اداروں سے اضافی ٹیکس کٹوتیوں کی وضاحت طلب کرتے ہوئے اساتذہ کے معاشی تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں