ربڑ کے ٹائروں سے چلنے والی ٹرین لاہور پہنچ گئی

لاہور (بیوروچیف) لاہور جدید شہر تھا، اب جدید ترین ہوتا جا رہا ہے؛ اس سادہ حقیقت کو بصارت سے محروم لاہوری شہری تک جانتے ہیں ، نہیں جانتے تو صرف وہ نہیں جانتے جو 9مئی کو دو مرتبہ پاکستان پر ہونے والے حملوں اور ان حملوں کے نتائج کے متعلق بھی کچھ نہیں جانتے۔ آٹومیٹڈ ریپڈ بس لاہور پہنچ گئی ہے۔جنوبی ایشیا میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا حصہ بنائی جانے والی یہ پہلی اے آر ٹی ہے جو لاہور میں چلے گی۔ اے آر ٹی جدید”ٹریک لیس سسٹم” ہے۔ یہ ٹرین ربڑ کے ٹائروں سے چلتی ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ایکس پر آٹو میٹڈ ریپڈ ٹرانزٹ ( ART) بس لاہور پہنچنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کے لیے جدید، مثر اور ماحول دوست سفری سہولت قرار دیا ہے۔مریم نواز نے اپنی پوسٹ میں اس جدید بس کی ویڈیو شئیر کی اور اس کے ساتھ کیپشن میں لکھا کہ اے آر ٹی جدید ترین ٹریک لیس سسٹم پر مبنی ہے جو ربڑ کے ٹائروں پر چلتی ہے اور ایک وقت میں 300مسافروں کو لے جا سکتی ہے۔ یہ روایت سے ہٹ کر ایک نیا ماڈل ہے جو سرمایہ کاری کے مثر استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اے آر ٹی بس کو جلد کینال روڈ پر ٹیسٹ رن کے لیے چلایا جائے گا تاکہ اس کی فعالیت اور کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے مزید بتایا کہ چین میں پنجاب کے لیے 1,100الیکٹرک بسیں تیار کی جا رہی ہیں، جن میں سے 240 بسوں پر مشتمل پہلا بیڑا 22اگست کو پاکستان پہنچے گا۔ یہ بسیں ان اضلاع میں بھجوائی جائیں گی جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ ان بسوں کا کرایہ صرف 20روپے ہوگا، تاکہ عام شہری بآسانی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ ہر بس میں اے سی، سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کا نظام، اور معذور افراد کے لیے بلٹ اِن وہیل چیئر ریمپ کی سہولت بھی موجود ہوگی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان جدید منصوبوں کا مقصد عوام کو باوقار، محفوظ اور ماحول دوست سفر کی سہولت دینا ہے اور پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں