زائرین کی ایران اور عراق روانگی’فیری سروس کا منصوبہ

اسلام آباد (بیوروچیف) حکومت کی جانب سے اربعین کے موقع پر زائرین کے ایران جانے کے لیے زمینی سفر پر پابندی کے فیصلے پر جاری مذاکرات میں تعطل کے دوران وزارتِ بحری امور نے زائرین کی ایران اور عراق روانگی کو آسان بنانے کے لیے فیری سروس شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس سروس کے لیے تفصیلی روڈ میپ کو آئندہ چند ہفتوں میں حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے پاکستان کی پہلی فیری سروس کے فوری آغاز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لائسنسنگ کے عمل میں اصلاحات اور آپریٹرز کے لیے مالی سہولتیں فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔یہ اصلاحات سمندری سفر کو سستا بنانے، زائرین کی معاونت کرنے اور بحری رابطے کو فروغ دینے کے لیے کی جا رہی ہیں۔شپنگ اینڈ پورٹس کی ڈائریکٹر جنرل عالیہ شاہد کے ساتھ ایک اجلاس میں وفاقی وزیر نے سمندری سفر کے فوائد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فیری سروس زائرین کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور کم لاگت سفری سہولت فراہم کر سکتی ہے جو ایران اور عراق جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحت اور کاروبار سے ہٹ کر یہ سروس مذہبی سفر کے لیے ایک بڑی سہولت بن سکتی ہے، ہم زائرین کو ایک محفوظ، سستا اور مثر سفری آپشن فراہم کر سکتے ہیں۔وزیر نے اس سروس کے معاشی فوائد پر بھی زور دیا، اور بتایا کہ ہر سال تقریباً 7سے 10لاکھ پاکستانی زائرین ایران اور عراق کا سفر کرتے ہیں، اگر پہلے 3سال میں ان میں سے 20فیصد نے فیری سروس استعمال کی، تو یہ سالانہ ایک لاکھ 40ہزار سے 2لاکھ مسافروں پر مشتمل ہو سکتی ہے، جو کہ ایک بڑا معاشی موقع ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ نجی آپریٹرز اور علاقائی بحری حکام سمیت متعلقہ فریقین سے مشاورت جاری ہے، فزیبیلیٹی اسٹڈیز اور ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، اور آئندہ چند ہفتوں میں پائلٹ لانچ متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مثر طریقے سے نافذ کیا گیا، تو یہ سروس خطے میں ایک اہم نیا سفری رابطہ بن سکتی ہے۔وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس عمل کو آسان بنانے کے لیے ہدایت کی کہ فیری لائسنسنگ کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے اور اسے پاکستان سنگل ونڈو پلیٹ فارم سے منسلک کیا جائے، جیسا کہ جہازوں کی رجسٹریشن کے موجودہ عمل میں کیا گیا ہے۔انہوں نے خاص طور پر یہ حکم دیا کہ موجودہ 6 ماہ کے لائسنس کے اجرا کا دورانیہ کم کرکے صرف ایک ماہ کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ 6ماہ کی تاخیر کا کوئی جواز نہیں ہے، ہمیں بیوروکریسی کو ختم کرنا اور فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔نجی شعبے کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے، وزیر نے فیری آپریٹرز کے لیے لچکدار مالی ماڈلز تلاش کرنے کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ان کاروباری افراد کی حمایت کریں، نہ کہ ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں، جو اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔وزارتِ بحری امور نے ایک ہائبرڈ مالی ماڈل تجویز کیا ہے، جس میں ملک کا مالیاتی نظام بینک اور انشورنس گارنٹیوں پر انحصار کرتا ہے تاکہ اس منصوبے کو سہارا دیا جا سکے۔زائرین کے لیے ایران کے زمینی سفر پر پابندی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور شیعہ برادری کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ڈیڈ لاک بدستور برقرار ہے۔مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے ناصر شیرازی، علامہ احمد اقبال رضوی، اسد نقوی اور شیعہ علما کونسل (ایس یو سی) کے علامہ شبیر میثمی، علامہ عارف واحدی اور زاہد اخونزادہ پر مشتمل مذاکراتی ٹیم نے وزارت داخلہ کو ایک تحریری تجویز جمع کروائی تھی۔اس تجویز میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ زائرین کے لیے ایران کے زمینی سفر پر پابندی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئٹہ میں پھنسی 80بسوں کو گبد-ریمدان بارڈر کراسنگ تک جانے کی اجازت دی جائے، تاہم حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں مل سکا، کیوں کہ متعلقہ حکام ایرانی صدر کی آمد کے سلسلے میں سیکیورٹی اجلاسوں میں مصروف تھے۔وزیر مملکت برائے داخلہ اور نہ ہی وزارت داخلہ کے کسی سینئر افسر کی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات ہو سکی۔مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ وہ حکومت کے جواب کے منتظر ہیں اور حکومتی فیصلے کے بعد اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ایم ڈبلیو ایم کے سیکریٹری جنرل ناصر شیرازی نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو، تاکہ زائرین کربلا کا سفر کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکام ہمارے دبا کو نہیں سمجھ رہے، جب کہ ان زائرین میں اہل سنت مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں