آلودگی پھیلانے والوں کی شامپ،سخت قوانین نافذ

لاہور ( بیو رو چیف )پنجاب حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پے پولوٹرز رولز کو باضابطہ طور پر ماحولیاتی قانون کا حصہ بنا دیا ہے۔ اب جو کوئی بھی فضا، پانی یا زمین کو آلودہ کرے گا، اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔پنجاب ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف موثر اور عملی قانون سازی کی ہے۔ عوام کو مہلک بیماریوں میں مبتلا کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔پنجاب کے 10 زونز میں آلودگی کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل اسمارٹ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے۔ہر زون میں “خبردار” نامی خودکار الرٹ سسٹم آلودگی کی اطلاع دے گا،اطلاع ملتے ہی ای پی اے فورس فوری کارروائی کرے گی۔ہر زون کے لیے الگ انچارج، انسپکٹرز اور مانیٹرنگ اسکواڈز فیلڈ میں کام شروع کر چکے ہیں جبکہ ڈرون کیمرے، خصوصی گاڑیاں اور فوری رسپانس ٹیکنالوجی فراہم کر دی گئی ہے۔صنعتوں کی چمنیوں، بھٹوں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی نگرانی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے مقدار اور معیار سے زائد آلودگی کی فوری شناخت، ڈیجیٹل سسٹم الرٹ کرے گا اور فورس متعلقہ شعبے میں فوری کارروائی کرے گی۔آلودگی کے دیگر ذرائع پر بھی کارروائی ہوگی، زہریلا صنعتی مواد پانی میں بہانے کوڑے کو آگ لگانے، پلاسٹک جلانے جیسے اقدامات پر سخت کارروائی ہوگی۔ 25 کروڑ روپے سے ای پی اے فورس کا ہیڈکوارٹر قائم، ماحولیاتی انفراسٹرکچر کی تیاری کی بھی منظوری اور گرین کریڈٹ پروگرام میں ای بائیکس، ای رکشے اور سپر سیڈرز شامل ہیں۔پنجاب کی پہلی ڈیجیٹل کلائمیٹ موومنٹ کا آغاز کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ کی نئی سوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ گرین اسکول پروگرام، صاف و سرسبز علاقے اور ماحولیاتی تعلیم کو عوامی مہم کا حصہ بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں