مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 6سال مکمل،پاکستان کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی

اسلام آباد(بیوروچیف) بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 6سال مکمل ہوگئے۔کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں یوم استحصال کشمیر آج بھرپور طریقے سے منایا جا رہا ہے، مودی سرکار کے مکروہ منصوبے کو بے نقاب اور مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پورے ملک میں ریلیوں، سیمینارز، تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی جانب سے آج یوم سیاہ منانے کی اپیل کی گئی ہے۔اسلام آباد میں دفتر خارجہ سے ڈی چوک تک یوم استحصال کشمیر ریلی نکالی گئی، جس میں سینئر حکام اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی، اس موقع پر تحریک آزادی کشمیر کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ڈی چوک پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔یاد رہے کہ بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور 5اگست 2019کو اپنے ہی آئین میں ترمیم کر کے آرٹیکل 370کو ختم کر دیا تھا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 5اگست 2019سے اب تک 1100سے زائد املاک نذر آتش اور 21000سے زائد کشمیری جیل میں قید کردیے گئے، مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت چھین کر عسکری محاصرہ سخت کر دیا تھا۔پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والے بھارت کا مکروہ چہرے دنیا پر عیاں ہوگئی، مقبوضہ کشمیر کا 58فیصد رقبہ لداخ، 26 فیصد جموں اور 16 فیصد وادی کشمیر پر مشتمل ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کے مسلم تشخص کو مسخ کرنے کیلئے ہر حربے کا استعمال کر رہی ہے، آرٹیکل 370 اور 35اے کی غیر آئینی تنسیخ جنیوا کنونشن 4 کے آرٹیکل 49 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد مردم شماری کمیشن نے اکثریتی علاقوں کی نشستیں 83 سے بڑھا کر 90 کردیں جبکہ مسلم اکثریتی علاقوں کی نشستوں میں صرف ایک فیصد اضافہ کیا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 56 ہزار ایکڑ اراضی بھی فوج نے قبضے میں لے لی۔اس کے علاوہ نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت 50 لاکھ سے زائد ہندوں کو کشمیر کا ڈومیسائل بھی دے دیا گیا ہے، مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت پر مشتمل ایک نیا ڈویژن بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں کشتوار، انتناگ اور کلگم کے اضلاع شامل ہونگے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت آزادی کے بعد سے خود کو سیکولر ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ انڈیا ہمیشہ سے ایک ہندو ملک رہا ہے، اس کے علاوہ عالمی ماہر قانون کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو ناصرف ختم کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے انسانی حقوق اور خطے کے امن کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔کانگریس کے ایم پی کا کہنا ہے کہ انڈیا کے آئینی تاریخ میں یہ ایک سیاہ دن ہوگا جس سے آنے والی نسلوں کو یہ احساس ہوگا کہ آج کتنی بڑی غلطی کی گئی ہے، یہ ہندوستان کے آئین، جمہوریت، سیکولرازم اور وفاق پر بہت بڑا حملہ ہے۔دریں ثنائ۔اسلام آباد/راولپنڈی(بیوروچیف) وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی عوام کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوم استحصال کے حوالے سے پیغام میں بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی شدید مذمت کی، انہوں نے کہا کہ یوم استحصال بھارتی بربریت کی ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے، بھارت کا غیر قانونی اور ناجائز قبضہ علاقائی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔محمد شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کشمیری قیادت کو خاموش کرنے کی کوششیں بھارت کے وسیع تر تسلط پسند اور انتہا پسندانہ ایجنڈے کا حصہ ہیں، جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل کی تلاش ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے، دنیا مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے انسانی حقوق کے جرائم کو روکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے ہی وطن میں بے اختیار کمیونٹی بننے کا خطرہ لاحق ہے، پاکستان کشمیریوں کے جائز حقوق کے حصول تک ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔دریں اثناء پاک فوج کے سربراہان نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، نیول چیف اور ایئر چیف نے بھی کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق کشمیریوں کی جدوجہد اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہے، بھارت کا کشمیر پر غیر قانونی قبضہ بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا مزید کہنا ہے کہ بھارت کے جابرانہ اقدامات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں