اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی ڈھانچے کا منصوبہ تیار، ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک کو 12نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام نسلی و لسانی بنیادوں پر صوبائی سیاست کو کمزور کرنے اور وفاق کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اٹھایا جا رہا ہے۔موجودہ صوبائی ڈھانچہ 1970 میں قائم ہوا تھا اور چلا آ رہا ہے، جو بڑی حد تک لسانی بنیادوں پر بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم سے ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم، تیز گورننس اور مرکز کے ساتھ ہم آہنگی ممکن ہو گی۔ بھارت، نائیجیریا اور ایتھوپیا جیسے ممالک میں اس حکمت عملی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ صوبائی سیٹ اپ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا ختم کر کے ہر ایک کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی مزید اختیارات دیے جائیں گے۔ مجوزہ 12صوبے، ہیڈکوارٹرز اور اہم علاقے1 پنجاب (4صوبے) 1۔پنجاب وسطی ہیڈکوارٹر: لاہوراضلاع: لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ۔2پنجاب شمالی ہیڈکوارٹر: راولپنڈی اضلاع: راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، خوشاب۔3پنجاب جنوبی ہیڈ کوارٹر: ملتان اضلاع: ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، رحیم یار خان۔ 4پنجاب مغربی ہیڈکوارٹر: فیصل آباداضلاع: فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا، بھکر۔ 2 بلوچستان (4صوبے)۔ 1بلوچستان ساحلی ہیڈکوارٹر: گوادراضلاع: گوادر، کیچ، پسنی، اورماڑہ، لسبیلہ۔2 بلوچستان وسطی ہیڈکوارٹر: خضداراضلاع’خضدار’قلات’مستونگ، آواران ، سوراب’3۔بلوچستان شمالی ہیڈکوارٹر: کوئٹہ اضلاع: کوئٹہ، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن۔ 4بلوچستان مشرقی ہیڈکوارٹر: ڈیرہ مراد جمالی اضلاع: نصیر آباد، جھل مگسی، کچھی، سبی، ڈیرہ بگٹی 3 خیبر پختونخوا (2صوبے)۔ 1خیبر شمالی ہیڈکوارٹر: پشاوراضلاع: پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، بونیر۔ 2خیبر جنوبی ہیڈکوارٹر: ڈیرہ اسماعیل خان اضلاع: ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں4 سندھ (2صوبے)۔ 1سندھ شہری ہیڈکوارٹر: کراچی اضلاع: کراچی کے تمام اضلاع، حیدرآباد۔ 2 سندھ دیہی ہیڈکوارٹر: سکھراضلاع: سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور، نواب شاہ، دادو، میرپور خاص۔ ممکنہ طریقہ کار 3 ماہ : آئینی مسودہ اور صوبائی حدود کا تعین6ماہ: قومی و صوبائی اسمبلیوں سے دو تہائی اکثریت سے منظوری4ماہ: عبوری گورنر، چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تعیناتی 68ماہ: نئی حلقہ بندیاں اور انتخابات23 سال: مستقل صوبائی دارالحکومت اور سیکرٹریٹ کی تعمیر ممکنہ ردعمل عوام’ شہری علاقوں میں خوشی، دیہی علاقوں میں احتیاط سیاسی جماعتیں’ وفاقی جماعتیں کریڈٹ لینے کی دوڑ میںہیں۔




