جسم میں پروٹین کی کمی کی علامات

کراچی ( بیو رو چیف )پروٹین کا حصول غذاء سے ممکن ہوتا ہے اور طبی ماہرین کے مطابق روزانہ کی غذا کی کم از کم 10فیصد کیلوریز پروٹین پر مبنی ہونی چاہیے۔مرغی کے گوشت، انڈوں، دالوں، مچھلی، گریوں، دودھ، دہی اور متعدد دیگر غذاؤں سے پروٹین کا حصول ممکن ہے۔مگر جسم کو پروٹین کی کمی کا سامنا ہو تو اس کا علم کیسے ہو سکتا ہے؟درحقیقت چند طبی مسائل کو جسم میں پروٹین کی کمی کا نتیجہ تصور کیا جاتا ہے۔پروٹین کی کمی کی ایک عام ترین علامت ٹانگوں، پیروں اور ہاتھوں کا سوجنا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خون کی گردش کے دوران پروٹین مختلف اعضا میں سیال کو اکٹھا ہونے سے روکنے کے لیے پروٹین کا کردار اہم ہوتا ہے۔اس مسئلے کو طبی زبان میں Edema کہا جاتا ہے جس کے دوران پیر، ہاتھ اور ٹانگیں سوج جاتی ہیں۔ویسے سوجن کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں تو اس حوالے سے ڈاکٹر ہی حتمی رائے دے سکتے ہیں۔پروٹین کی کمی ایک اور نشانی جگر میں چربی کا ذخیرہ ہونا بھی ہے۔پروٹین کی کمی کو جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے سے منسلک کیا جاتا ہے۔جگر کے اس عام ترین عارضے کے دوران ورم، جگر کو نقصان پہنچنے اور دیگر سنگین اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔یہ واضح نہیں کہ پروٹین کی کمی سے جگر کے اس عارضے کا سامنا کیوں ہوتا ہے مگر تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ ایسا معدے میں جرثوموں میں تبدیلیوں سے ہوتا ہے۔مختلف پروٹینز جیسے کولیگن اور keratin بال، ناخن اورجلد بننے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تو جب جسم میں پروٹین کی کمی ہوتی ہے تو بال پتلے، خشک اور کمزور ہو جاتے ہیں اور گنج پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔اسی طرح ناخن بھی کمزور ہو جاتے ہیں جبکہ جلدی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ہمارے مسلز میں پروٹین کا سب سے زیادہ ذخیرہ ہوتا ہے۔جب غذا ء میں پروٹین کی مقدار گھٹ جاتی ہے تو پھر جسم مسلز سے پروٹین کو کھینچنے لگتا ہے تاکہ اہم ٹشوز اور جسمانی افعال کو برقرار رکھ سکے۔اس کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ مسلز کا حجم گھٹ جاتا ہے اور وہ کمزور ہو جاتے ہیں۔درحقیقت جسم میں پروٹین کی معمولی کمی سے بھی مسلز کا حجم گھٹ جاتا ہے خاص طور پر بزرگ افراد میں۔پروٹین کی کمی سے ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر کا خطرہ بڑھتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد پروٹین کی زیدہ مقدار کا استعمال کرتے ہیں، ان کے کولہے اور ریڑھ کی ہڈی کی کثافت بھی زیادہ ہوتی ہے۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ پروٹین کے زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں ہڈیوں کے فریکچر یا کمزوری کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔جسم میں پروٹین کی کمی سے بچوں کی نشوونما متاثر ہوسکتی ہے۔درحقیقت بچوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ پروٹین کا ناکافی استعمال ہوتا ہے۔خون میں موجود Amino acids مدافعتی نظام کو اینٹی باڈیز بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں جس سے جسم جراثیموں سے لڑتا ہے۔مگر پروٹین کی کمی کے باعث مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور اکثر بیمار رہنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔پروٹین کو جسم کا ایندھن مانا جاتا ہے اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق اس کی کمی سے بھوک زیادہ لگنے لگتی ہے۔غذا ء میں پروٹین کی کمی پر ہمارا جسم زیادہ کھانے کی خواہش کرنے لگتا ہے خاص طور پر چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذاؤں کی اشتہا بڑھ جاتی ہے جس سے جسمانی وزن میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین نے بتایا کہ پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو کھانے سے پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رہتا ہے جس سے جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔پروٹین کی کمی کے شکار افراد کے زخم دیر سے بھرتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پروٹین کی کمی ہونے پر جسم مناسب مقدار میں کولیگن نہیں بنا پاتا جوجلد کے اہم ہوتا ہے۔اسی طرح خون کو جمانے کے لیے بھی جسم کو پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارا دماغ خلیات تک پیغامات پہنچانے کے لیے نیورو ٹرانسمیٹرز نامی کیمیکلز کو استعمال کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں