چندی گڑھ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی پنجاب میں سیلاب سے بڑی تباہی، مودی خاموش،ضلع گورداس پور سب سے زیادہ متاثر، جون میں وقت پر پانی چھوڑنے سے تباہی کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا تھا بھارتی پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچا دی’1000سیسے زیادہ گائوں اور 61000ہیکٹیئر سے زیادہ زمین اس سے متاثر ہوئی ۔ سیلاب کی زد میں آنے والے سب سے زیادہ گائوں گرداس پور ضلع میں ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاری کے دوران امدادی کام جاری ہے، تاہم، اپوزیشن پارٹیوں نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب کے لوگوں کو عام آدمی پارٹی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب، ریاست کے وزیر آبی وسائل بی کمار گوئل نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکز کے ماتحت بھاکھڑا بیاس مینجمنٹ بورڈ (بی بی ایم بی) کے ذریعہ جون میں وقت پر پانی چھوڑے جانے سے تباہی کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لاکھوں افراد اب بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن کوئی مدد دینے کی بات تورہنے دیں۔وزیر اعظم مودی نے اس بحران پر ایک بھی بیان نہیں دیا ۔جبکہ چند اپوزیشن پارٹیوں کے رہنمائوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر پنجاب کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔ اکال تخت کے جتھے دار گیانی کلدیپ سنگھ گرگج نے لوگوں سے ریاست کے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے تمام پنجابیوں سے اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور بحران میں پھنسے ہر شخص کی مدد کرنے کی درخواست کی۔ کلدیپ سنگھ گرگج نے کہا کہ پنجاب میں بار بار آ نے والے سیلاب کی اصل وجوہات کا پتہ لگانا ضروری ہے تاکہ لوگ تیار رہیں۔کانگریس کی پنجاب یونٹ کے صدر امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نیپشتوں اور آبی ذرائع کی مبینہ بدانتظامی کو سیلاب کاذمہ دار ٹھہرایا اور اس کے لیے ذمہ داری طے کرنے کامطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ شدید بارش کی پیشن گوئی کے باوجود پشتوں میں پانی جمع کیوں ہونے دیا گیا اور مرحلہ وار طریقے سے وقت پر پانی کیوں نہیں چھوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی غیر متوقع قدرتی آفت سے زیادہ مجرمانہ غفلت ہے۔




