ٹوکیو ( مانیٹرنگ ڈیسک )عمر میں اضافے کے ساتھ خود کو جوان رکھنا چاہتے ہیں؟ تو ایسا ممکن ہے۔درحقیقت ورزش کو معمول بنانے سے بڑھاپے کے اثرات کو حقیقی معنوں میں ریورس کرنا ممکن ہے۔یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ۔ Tohokuیونیورسٹی کی تحقیق میں ورزش، جسمانی سرگرمیوں اوراور فٹنس سے عمر پر مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔لوگوں کی وہ عام ترین عادت جو جوڑوں کی تکلیف کا شکار بنا دیتی ہے۔تحقیق میں دیکھا گیا کہ ورزش کو معمول بنانے سے ڈی این اے اے افعال پر عمر میں اضافے سے مرتب ہونے والے اثرات میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج)بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگرچہ جسمانی سرگرمیاں جیسے چہل قدمی یا گھر کے کام کرنے سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے مگر باقاعدہ ورزش کو معمول بنانے سے حیاتیاتی عمر کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔لوگ سانس کے ذریعے روزانہ پلاسٹک کے کتنے ذرات نگلتے ہیں؟ تعداد حیران کر دینے والی ہے ۔تحقیق کے مطابق جسمانی فٹنس خاص طور پر دل اور نظام تنفس سے متعلق فٹنس بہتر ہونے سے حیاتیاتی عمر کی رفتار کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔محققین نے متعدد تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا اور دریافت کیا کہ ورزش کو معمول بنانے سے خون اور دیگر مسلز میں حیاتیاتی عمر کے آثار گھٹ جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صرف 8 ہفتوں کی ایروبک یا جسمانی مضبوطی بڑھانے والی ورزشوں سے ہی حیاتیاتی عمر میں 2 سال کی کمی آتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایک تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جب معمر افراد کی آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے تو ان کی حیاتیاتی عمر کی رفتار میں نمایاں حد تک سست ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ جسمانی فٹنس کو برقرار رکھ کر متعدد اعضا کو بڑھاپے کے اثرات سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔محققین نے جائزہ لیا کہ ورزش سے کن اعضا کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔انہوں نے دریافت کیا کہ ورزش کو معمول بنانے سے دل، جگر، چربی کے ٹشوز اور معدے سب کو فائدہ ہوتا ہے۔محققین کے مطابق نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر کچھ افراد کو ورزش سے دیگر کے مقابلے میں زیادہ فائدہ کیوں ہوتا ہے




