لاہور (بیوروچیف) دریائے سندھ میں گڈو ،سکھر اور کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی،گڈو بیراج کے مقام پر اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ،حفاظتی بندوں پر دبائو بڑھ گیا،پانی کا بہائو 6 لاکھ 35ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا۔فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق گڈوبیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہائو بڑھ کر 6 لاکھ 35ہزار کیوسک ہو گیا ۔سکھربیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور یہاں پانی کی آمد 5لاکھ 6ہزار کیوسک ہو گئی۔ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور بہائو 2لاکھ 78ہزار کیو سک ریکارڈ کیا گیا۔ دریا ئے سندھ میں کوٹ مٹھن راجن پور ، چاچڑاں شریف پر پانی کی سطح 11.7فٹ پر آ گئی ۔لاڑکانہ سیہون حفاظتی بند کے عاقل آگانی لوپ بند کے مقام پر بڑا ریلا گزررہاہے، 20سے زائد دیہات ڈوبنے کے باوجود کچے کے رہائشی منتقل ہونے پر تیار نہیں، بند کو مضبوط کرنے کے لیے پتھر منگوا لیے گئے۔دریائے چناب میں ہیڈ پنجند پر بہا ئو میں کمی کا سلسلہ جاری ہے جہاں پانی کا بہائو 3 لاکھ 33 ہزا ر کیوسک ریکارڈ کیا گیا مگر اب بھی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کے سیلاب ہیں، ہیڈ سلیمانکی پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہیجبکہ دریائے راوی میں صورتحال معمول پر آ گئی۔دریائے ستلج کا بپھرا پانی قبولہ میں شہریوں کی جمع پونجی بہا لے گیا۔کنڈشمس دین کی بیوہ کا آشیانہ اور فصلیں تباہ ہوگئیں۔بچے، خواتین اور بزرگ کھلے آسمان تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے اوباڑو کے متعدد دیہات زیر آب،فصلیں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں، مکین نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔عارف والا میں سیلاب نے ہر طرف تباہی کی داستانیں، متاثرین کی فصلیں اور گھر دریا برد ہوگئے،سیلاب زدگان سڑک کنارے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں ۔ اوچ شریف کے نواحی علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچا دی ،،ہیڈ پنجند سے آنے والے سیلابی ریلے سے درجنوں بستیاں زیر آب، سیکڑوں جانور بہہ گئے ،، متعدد دیہات میں سیلاب متاثرین گھروں میں محصورہو گئے ،، متاثرین کا کہنا ہے کہ کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا جارہا۔ احمد پور سیال میں سیلاب گزر گیا لیکن تباہی پھیلا گیا محلہ پاہن پور کے گرد چار چار فٹ سیلابی پانی کھڑا ہے۔ پاہن پور سمیت تین مواضعات کو ملانے والی سڑک کی حالت ناگفتہ بہ ہوگئی ہے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ترنڈہ محمد پناہ میں منچن بند پر بیٹھے سیلاب متاثرین رل گئے۔ انتظامیہ کے انتظامیہ صرف فلڈ ریلیف کیمپوں تک محدود منچن بند پر بیٹھے افراد سرکاری سہولیات سے محروم ،ٹبی جھلن کا سیلاب متاثرہ غریب خاندان کھلے آسمان تلے دھوپ میں بیٹھنے پر مجبور تاحال انتظامیہ خیمہ فراہم نہ کرسکی ۔




