لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک )برطانیہ کے سٹینڈرڈز انسٹیٹیوشن (بی ایس آئی)کے ایک حالیہ سروے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے متعدد ملکوں میں ابتدائی نوعیت کی ملازمتوں میں کمپنی مالکان نئی بھرتیوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کام چلانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کی طرف دیکھنے والے نوجوانوں کو اب مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ سروے بتاتا ہے کہ کاروباری افراد اپنی کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کاروبار چلانے والوں کی ترجیح بزنس کی اے آئی کے ذریعے آٹومیشن ہے نہ کہ نئی بھرتیوں سے آسامیاں پر کرنے کے بعد ان کی تربیت پر رقم خرچ کرنا۔ 2030تک 99فیصد افراد بیروزگار، اے آئی ٹیکنالوجی کسی کو نہیں چھوڑے گی۔بی ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دس میں سے چار کاروباروں کے مالکان کہتے ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے ملازمین کی تعداد کو کم کرنے کے حق میں ہیں۔اس سروے میں بی ایس آئی نے برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، چین اور جاپان میں 850بزنس مالکا ن سے رائے لی ہے۔سات ملکوں کے ان کاروباری افراد میں سے 31 فیصد نے کہا کہ وہ کسی نئے شخص کو ملازمت پر رکھنے سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ کیا مصنوعی ذہانت سے اس کا متبادل مل سکتا ہے۔ ہر پانچ میں سے دو کاروباری مالکان نے کہا کہ وہ اگلے پانچ برس میں اس کی توقع کر رہے ہیں۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ نئی نسل جسے جنریشن زی کہا جاتا ہے کو ملازمتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ایک ایسے وقت میں، جب لیبر مارکیٹ میں مندی ہے یا ملازمتیں کم ہو رہی ہیں۔




