پاک ایران تجارت کو مزید آسان بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد ( بیورو چیف)وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان نے پاکستان اور ایران کے درمیان سامان کی سرحد پار ترسیل کو مزید مؤثر اور آسان بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر برائے پاکستان رضا امیری مقدم سے ملاقات کے دوران کیا۔ملاقات کے دوران وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم دس ارب روپے تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی تجارتی ٹرکوں کی آمد و رفت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ سرحدی تجارت میں درپیش رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔وزیرِ مواصلات نے کہا کہ اس ضمن میں نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے گا، جبکہ سیکرٹری مواصلات اور ایرانی سفارتخانے کے حکام کے مابین ایک اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا تاکہ پیش رفت کو مزید تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اگرچہ بعض اوقات سرکاری پیچیدگیاں معاملات کو سست کر دیتی ہیں، تاہم مسلسل پیروی اور سنجیدہ کوششیں بالآخر مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔وزیر عبدالعلیم خان نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے اس وڑن کی بھرپور تائید کی جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، روابط اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان محبت اور خیرسگالی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے وزیرِ مواصلات کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے علاقائی وزرائے ٹرانسپورٹ کانفرنس کا کامیاب انعقاد ممکن بنایا، جس میں متعدد ممالک کے وزراء اور ماہرینِ ٹرانسپورٹ نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی وزیرِ ٹرانسپورٹ محترمہ فرزانہ صادق کی شرکت نہایت اہمیت کی حامل تھی، اور اس کانفرنس نے علاقائی تعاون اور مکالمے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ایرانی سفیر نے وزیرِ مواصلات کی ان کوششوں کو سراہا جن کے ذریعے علاقائی ممالک کے درمیان رابطہ کاری اور تجارت سے متعلق امور پر عملی بات چیت ممکن ہوئی، جس سے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مضبوطی ملی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایران پاکستان سے گوشت کی بڑی مقدار درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ساتھ ہی دو لاکھ ٹن مکئی کی خریداری کے امکانات پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ تجارتی تعلقات میں مزید وسعت پیدا کی جا سکے۔سفیر امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات اس وقت گزشتہ چالیس برسوں کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتوں میں اعلیٰ سطح کے مزید دورے اور ملاقاتیں متوقع ہیں تاکہ طے شدہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں ن( آر ٹی ایم سی) کانفرنس کے دوران مہمان نوازی پر بھی وزیرِ مواصلات کا شکریہ ادا کیا۔ملاقات میں ایران کے کمرشل کونسلر، محسن شہبازی بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں