ڈپریشن کی اہم وجہ دریافت

رومانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈپریشن ایک پیچیدہ ذہنی مرض ہے جس کے شکار افراد اکثر اداس رہتے ہیں جبکہ ہر وقت بے بسی کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔اب تک ماہرین ٹھوس انداز سے یہ تعین نہیں کرسکے کہ لوگوں کو اس بیماری کا سامنا کیوں ہوتا ہے۔مگر اب انہوں نے ایک اہم ممکنہ وجہ کو دریافت کیا ہے اور وہ ہے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی۔یہ وٹامن مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے، ہڈیوں کی صحت اور جسم کے متعدد دیگر افعال کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ہر ہفتے اس مزیدار گری کو کچھ مقدار میں کھانا جان لیوا امراض قلب سے بچا سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی اور بالغ افراد میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے۔رومانیہ کی کیرول ڈیویلا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 31ممالک میں ہونے والی 66 مشاہداتی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔46 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا سے عندیہ ملا کہ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی سے ڈپریشن کی علامات کی شدت بڑھ گئی یا لوگوں میں اس مرض کی تشخیص ہوئی۔ 10تحقیقی رپورٹس کے نتائج ملے جلے تھے، یعنی کچھ میں وٹامن ڈی کی کمی کو ڈپریشن سے متاثر ہونے سے منسلک کیا گیا جبکہ دیگر میں کوئی تعلق دریافت نہیں ہوسکا۔محققین نے بتایا کہ ہم نے بہت محتاط ہوکر نتائج مرتب کیے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ جسم میں وٹامن کی کمی ڈپریشن کا شکار بنا سکتی ہے جبکہ مجموعی صحت کو بھی دیگر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس کی وجہ ثابت نہیں کرسکے تو اس حوالے سے تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل Biomolecules and Biomedicine میں شائع ہوئے۔واضح رہے کہ ڈپریشن محض ‘دماغ’ تک محدود رہنے والا مرض نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں جسم بھی متاثر ہوتا ہے۔ڈپریشن کے شکار افراد کے لیے ان سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے جن میں انہیں دلچسپی ہوتی ہے جبکہ منفی خیالات کا غلبہ رہتا ہے۔اس سے قبل جنوری 2023 میں چین کی فوجان یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹی وی یا دیگر اسکرینوں کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اسکرین کے سامنے گزارے جانے والا ہر گھنٹہ کسی فرد میں ڈپریشن کا خطرہ 5 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ اسمارٹ فون، کمپیوٹر یا دیگر اسکرینوں کے سامنے بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا ذہنی امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں