وزیراعظم27ویں ترمیم منظور کروانے کیلئے سرگرم

اسلام آباد (بیوروچیف) وزیر اعظم شہباز شریف سینیٹ سے ستائیسویں آئینی ترمیم منظور کروانے کے لیے متحرک ہوگئے ہیں۔ شہباز شریف نے باکو سے واپس پہنچتے ہی حکومتی و اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کو عشائیہ پر مدعو کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم آج حکومتی و اتحادی سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔ وزیراعظم حکومتی واتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کو 27ویں ترمیم پر اعتماد میں لیں گے۔دوسری جانب آئین میں ترمیم کے لیے دونوں ایوانوں سے الگ الگ دو تہائی اکثریتی حمایت درکار ہو گی۔ اس وقت آئینی ترمیم کے لیے سینیٹ سے 64اور قومی اسمبلی سے 224ارکان کے ووٹ درکار ہوں گے۔ سینٹ میں اپوزیشن بینچز پر30 ارکان موجود ہیں جو ممکنہ طور پر آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے۔سینیٹ پارٹی پوزیشن کے مطابق حکومتی بینچز پر اس وقت پیپلزپارٹی 26 سینٹرز کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے جبکہ حکومتی بینچز پر مسلم لیگ ن کے 20، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 ارکان ہیں، حکومتی بینچز پر ایم کیو ایم پاکستان کے 3، نیشنل پارٹی کا ایک اور پاکستان مسلم لیگ ق کا بھی ایک سینیٹر ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی بینچز پر 3 آزاد سینیٹرز ہیں جن میں سینیٹر عبدالکریم، سینیٹر عبدالقادر اور محسن نقوی ہیں۔ تین سینیٹرز انوار الحق کاکڑ، اسد قاسم اور سینیٹر فیصل واوڈا نہ حکومتی اور نہ ہی اپوزیشن بینچز پر بیٹھتے ہیں۔ یہ تینیوں سینیٹرز حکومت کو ووٹ دیتے ہیں، اس طرح سینیٹ میں حکومت کو 61 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں