فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) زرعی شعبے میں نجی و سرکاری اشتراک سے نہ صرف پیداوار میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ اناج، پھل اور سبزیوں میں سپرے کی وجہ سے مضرصحت مواد کی بین الاقوامی معیار کے مطابق حد کو یقینی بنا کر کثیرزرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے بین الاقوامی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں بائر انٹرنیشنل کے ہو می چو، ڈاکٹر سائی می لی اور ڈاکٹر احمد رُسلی شامل تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ زرعی چیلنجز سے نمٹنے اور غذائی تحفظ کے ساتھ عوامی صحت کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائنسی رجحانات کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ”زیادہ سے زیادہ باقیاتی حد” کسی بھی غذا میں موجود ممکنہ آلودہ مادے کی وہ زیادہ سے زیادہ مقدار ہے جس کی قانونی طور پر اجازت دی جاتی ہے۔ ہو می چو نے تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے اقدامات کو سراہا۔ ملاقات میں زرعی ترقی کے لیے مشترکہ تعاون کے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین انٹومالوجی پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکرم نے کہا کہ وہ قومی سطح پر کیڑوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ باقیاتی حد کو نظرانداز کرنا نہ صرف صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ اس سے برآمدات بھی متاثر ہوتی ہیں۔




