نیدرلینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ روزانہ کچھ مقدار میں مونگ پھلی کھانا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت دماغی صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔یہ بات نیدرلینڈز میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ Maastricht یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں روزانہ کچھ مقدار میں مونگ پھلی کھانے سے دماغی صحت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔اس تحقیق میں مونگ پھلی کھانے سے دماغی صحت پر مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔اس تحقیق میں 31صحت مند افراد کو شامل کیا گیا۔ان سب کی صحت اچھی تھی اور جسمانی وزن مستحکم تھا۔ہر فرد کو ایک کلینیکل ٹرائل کا حصہ بنایا گیا جو کنٹرول اور ٹیسٹ مراحل پر مشتمل تھا۔پہلے مرحلے میں 8ہفتوں تک ان افراد کو مونگ پھلی اور دیگر درختوں کی گریوں کو نہ کھانے کی ہدایت کی گئی اور پھر 8ہفتوں تک معمول کے مطابق رہنے کا کہا گیا۔اس کے بعد دوسرے مرحلے میں انہیں 8ہفتوں تک روزانہ 60گرام مونگ پھلیاں کھانے کی ہدایت کی گئی اور پھر 8ہفتوں تک معمول کے مطابق رہنے کی ہدایت کی گئی۔اس مرحلے میں بھی انہیں دیگر گریوں کے استعمال سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تحقیق کے آغاز، درمیان اور اختتام پر ان افراد کے طبی معائنے بشمول بلڈ پریشر، خون کے نمونے اور غذا وغیرہ کی جانچ پڑتال کی گئی۔ہر مرحلے کے اختتام پر ان کے ایم آر آئی اسکینز اور یادداشت کے ٹیسٹ بھی کیے گئے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ مونگ پھلی کھانے کے مرحلے کے دوران ان افراد کے دماغ میں خون کا بہا بڑھ گیا۔دماغ کے یادداشت اور فیصلہ سازی سے جڑے کچھ حصوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی اور ان حصوں میں خون کا بہا زیادہ بڑھا۔ان افراد کی یادداشت میں بھی کچھ بہتری ریکارڈ ہوئی اور وہ زیادہ چیزوں کو یاد کرنے کے قابل ہوگئے۔محققین کے خیال میں دماغ میں خون کا بہا بڑھنے سے دماغی صحت اور افعال میں بہتری آئی۔اس سے ہٹ کر ان افراد کے بلڈ پریشر میں بھی کمی دیکھنے میں آئی، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ گھٹ گیا۔محققین کے مطابق نتائج حوصلہ افزا ہیں مگر ان کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ مونگ پھلی کے سپلیمنٹس سے بھی طویل المعیاد بنیادوں پر دماغی صحت کو فائدہ ہوتا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ مونگ پھلی کو دماغی تنزلی کا علاج قرار دینا تو غلط ہوگا مگر یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اسے کھانے سے وقت گزرنے کے ساتھ دماغی افعال کو فائدہ ہوسکتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔




