شہری ترقی کیلئے جوائنٹ وینچر زکے تحت نئے منصوبے شروع کرینگے،محمد آصف چوہدری

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے کہا ہے کہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ فیصل آباد کی جامع، منظم اور مربوط ترقی کیلئے فیصل آباد ترقیاتی ادارہ فیصل آباد چیمبر کے تعاون سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یا جوائنٹ وینچر ز کے تحت نئے منصوبے شروع کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہو ئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ شہری ترقی ایک وسیع موضوع ہے جس کیلئے اجتماعی دانش اور تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ کی طرف سے اٹھائے جانے والے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایف ڈی اے سٹی اور سپورٹس کمپلیکس براہ راست ان کے دائرہ کار میں آتے ہیں جن کی جلد آباد کاری کیلئے ہم جہتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 75 مربع جات پر مشتمل ایف ڈی اے سٹی سب سے بڑی رہائشی کالونی ہے جس کو 2 حصوں میں مکمل کیا جانا ہے۔ چند سال قبل ہی پہلے مرحلہ میں بجلی کی فراہمی مکمل کی گئی۔ ایف ڈی اے سٹی میں سٹیٹ آف دی آرٹ سپورٹس کمپلیکس گزشتہ پونے دو سال سے سروسز فراہم کر رہا ہے اور اب اس کی توسیع کے لئے ماسٹر پلان تیار کر لیا گیا ہے جس میں کئی نئی سہولتیں بھی مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں 25 ایکڑ پر مشتمل نیچرل پارک تعمیر کیا جائے گا جو اپنی نوعیت کا پاکستان میں پہلا منصوبہ ہوگا اس کیلئے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز ہاسنگ فانڈیشن سے بھی بات چیت جاری ہے تاکہ ریٹائر ہونے والے صوبائی ملازمین کو یہاں 400 سے زائد مکمل ہونے والے پلاٹ فوری الاٹ کئے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ایف ڈی اے سٹی میں دفاتر اور رہائش گاہوں کی تعمیر کیلئے 8 سے 9 کینال اراضی خریدی ہے ہے جبکہ ایف بی آر نے بھی 12 کینال کمرشل جگہ حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ڈویژنل ماڈل سکو ل کی تعمیر کا بھی کام جاری ہے کوشش کی جائے گی کہ اگلے سمسٹر سے قبل اس کو مکمل کر لیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں ایف ڈی اے کی کل 17 کالونیاں ہیں۔ اِن رہائشی پلاٹوں میں سکول بن جاتے ہیں اور پلنتھ لیول یکساں نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم ایف ڈی اے کوشش کر رہا ہے کہ اِن خلاف ورزیوں کو قانونی ذرائع کے مطابق روکا جائے۔ انہوں نے اس بات کی نفی کی کہ کینال روڈ اور دیگر سڑکیں ایف ڈی اے کے زیر انتظام آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف ڈی اے ڈپازٹ ورکس کے تحت کام کرتا ہے جنہیں مکمل کر کے میونسپل کارپوریشن کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کینال روڈ پر مارکیٹس اور مارکیز بن رہی ہیں جن سے دیگر شہری مسائل کے ساتھ ساتھ ٹریفک کے مسائل بھی سنگین صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف ڈی اے نے ٹریفک کی بحالی کیلئے انڈر پاسز کی بجائے یوٹرن تجویز کئے ہیں اور اِن جگہوں پر سڑک 5 لین کی تعمیر ہو گی تاکہ صرف انتہائی دائیں جانب مڑنے والے آخری لین کو استعمال کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر کے سامنے ریمپ بھی تجویز کیا گیا ہے جو صرف اترنے کیلئے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اس منصوبے کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے بھجوایا گیا تھا تاہم توقع ہے کہ اس کو اس سال اے ڈی پی میں شامل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے نئے ماسٹر پلان کے حوالے سے بتایا کہ گرین ایریا میں 30 ہزار کینال رقبہ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ ماحول کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف ڈی اے کے زیر کنٹرول 111کچی آبادیوں میں سے 84کو ریگولر کر دیا گیا ہے جبکہ ان میں ریلوے کی زمین پر قائم آبادیاں شامل نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں صنعتی اور رہائشی مشترکہ علاقوں میں اب بھی 60 ہزار صنعتیں قائم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میٹرو بس سروس ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا منصوبہ تھا مگر حکومت پنجاب نے اب ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے اس کی منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کیلئے آئندہ دنوں میں فیصل آباد آئیں گی۔ رئیل اسٹیٹ کے مسائل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ زمینوں کے ایف بی آر۔ مارکیٹ اور ڈی سی ریٹ میں بہت زیادہ فرق ہے جس کی وجہ سے یہ شعبہ مسلسل بحران کا شکار ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے نے کہا کہ پنجاب ہاسنگ اینڈ ٹان پلاننگ ایجنسی اس وقت 3 کم لاگت کے رہائشی سکیموں پر کام کر رہی ہے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے ایف ڈی اے کے حوالے سے شہری مسائل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بزنس کمیونٹی مسائل کے حل کیلئے حکومت اور سرکاری اداروں سے تعاون کیلئے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے ایف ڈی اے سٹی میں سپورٹس کمپلیکس کو کلب میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کو سراہا اور کہا کہ اس سے ایف ڈی اے سٹی کی جلد آباد کاری میں مدد ملے گی۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے باہر غیر قانونی پارکنگ کو روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مختلف سطح پر پراپرٹی کی قیمت کے تعین میں بھی یکسانیت پیدا کی جائے۔ سوال و جواب کی نشست میں سابق صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں، مزمل سلطان، سہیل بن رشید، چوہدری محمد نواز، وحید خالق رامے، اشرف مغل، ڈاکٹر حبیب اسلم گابا، عمر فاروق کاہلوں، حاجی محمد عابد، بلال جمیل، رانا اکرام اللہ اور دیگر ممبران نے حصہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے کے بھائی کی وفات پر دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ آخر میں سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یو سف شیخ نے ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری کو چیمبر کی گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے خصوصی کالر پن لگائی، شیلڈ اور تحائف بھی پیش کئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں