ڈپریشن سے ڈیمینشیا کے مرض کاخطرہ

لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک )ڈپریشن ایسا عام دماغی عارضہ ہے جس کا سامنا دنیا بھر میں کروڑو ں افراد کو ہوتا ہے۔مگر اب دریافت ہوا ہے کہ درمیانی عمر میں ڈپریشن کی 6مخصوص علامات کا سامنا کرنے والے افراد میں مستقبل میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔برطانیہ کی لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں درمیانی عمر میں ڈپریشن سے دماغی صحت پر مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔ایسا طویل عرصے سے مانا جاتا ہے کہ درمیانی عمر یں ڈپریشن سے بڑھاپے میں ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔مگر تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مجموعی ڈپریشن کی بجائے اس کی مخصوص علامات ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ان علامات میں خود پر اعتماد ختم ہو جانا، مسائل کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہونا، دیگر افراد کے لیے گرمجوشی اور محبت محسوس نہ ہونا، ہر وقت نروس رہنا، کام سے کبھی مطمئن نہ ہونا اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات شامل ہیں۔محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ درمیانی عمر میں ڈپریشن کی مخصوص علامات کا سامنا ہونے پر مستقبل میں ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ درمیانی عمر میں لوگوں کو متعدد علامات کا سامنا ہوتا ہے اور بظاہر ہر علامت طویل المعیاد بنیادوں پر دماغی صحت پر اثرات مرتب کرتی ہے۔اس تحقیق میں درمیانی عمر کے 5811 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جو 1985 میں ایک تحقیق کا حصہ بنے تھے۔ان افراد میں 1997 سے 1999 کے درمیان درمیانی عمر میں ڈپریشن کی علامات کا تجزیہ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں