روفی کی ماں

محنت سے پالا جس نے
مجھے انسان بنا ڈالا جس نے
عظمت کا نشاں
روفی کی ماں
دیدار تھا جس کا حج جیسا
تھی ساتھ طوافِ کعبہ میں
ہے جنت کا نشاں
روفی کی ماں
آنکھوں سے دعائیں دیتی تھی
دامن سے ہوائیں دیتی تھی
تھی وہ جائے اماں
روفی کی ماں
اب کون جلائے گا مرچیں
اب کون اتارے گا نظریں
رحمت کا وہ جہاں
روفی کی ماں
اب کون کہے گا لعل مجھے
اب کون سنوارے گا بال مرے
کڑی دھوپ میں ٹھنڈی چھاں
روفی کی ماں
زم زم سے مقدس لمحے تھے
ماں ساتھ تھی صفا مروہ میں
تھی روفی کی جاں
روفی کی ماں
سکھ میرے تھے باندھے پلو میں
جو روز مجھے مل جاتے تھے
برکت کا جہاں
روفی کی ماں
رمضاں کی میسر برکت تھی
افطار سحر کی رونق تھی
تھی ساتھ وہاں
روفی کی ماں
چھائوں میں گنبد خضریٰ کی
خدمت کی سعادت حاصل تھی
مہماں تھی مدینے آ قاۖ کی
فردوس مکاں
روفی کی ماں
……روفی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں