موجودہ بلدیاتی ایکٹ عوام کے حق حکمرانی پر کھلا ڈاکہ ہے،ڈاکٹر اسامہ رضی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیرڈاکٹراسامہ رضی نے ضلع کونسل چوک میں پنجاب بلدیاتی ایکٹ کے خلاف دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بلدیاتی ایکٹ عوام کے حق حکمرانی پر کھلا ڈاکا ہے۔ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے مگر پنجاب بلدیاتی ایکٹ مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں ختم کرنے کے مترادف ہے۔ بااختیار بلدیاتی نظام ہی عوامی خوشحالی اور شفاف حکمرانی کی ضمانت ہے۔ جماعت اسلامی اس عوام دشمن ایکٹ کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور اس کے خلاف عدالتوں اور سڑکوں پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ جب تک عوام کو ان کا حق نہیں ملتا، احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ اس موقع پر ضلعی امیر محبوب الزماں بٹ،صوبائی نائب امیر رانا عبدالوحید، یاسر کھارا، طاہر ایوب، عظیم رندھاوا، را سکندر اعظم،شیخ مشتاق، سردار ظفر حسین،افضال شاہین ودیگربھی موجود تھے۔ڈاکٹراسامہ رضی نے کہاکہ پنجاب بلدیاتی ایکٹ آئین کی روح کے منافی ہے اور اس سے مقامی جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ یونین کونسلز اور تحصیلوں کے منتخب نمائندوں کو وسائل اور اختیارات سے محروم کرنا عوام دشمن پالیسی ہے۔اس قانون کے ذریعے اختیارات چند افسران اور وزرا تک محدود کر دیے گئے ہیں جبکہ عوامی نمائندوں کو بے اختیار بنا دیا گیا ہے۔حکومت عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بلدیاتی اداروں کو کمزور کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حافظ نعیم الرحمن کی کال پر پنجاب بھر میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف اور با اختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پرامن جمہوری تحریک کا آغاز ہوچکاہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکلA 140 کے مطابق ملک کی ہر صوبائی حکومت کو مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لانے کا پابند کیا گیا ہے، جنہیں سیاسی، انتظامی اور مالیاتی خود مختاری حاصل ہوگی۔ بدقسمتی سے کوئی جمہوری حکومت اپنے اراکین سمبلی کی بجائے بلدیاتی نمائندوں کو اختیار دینے کے حق میں نہیں ہوتی۔ اب بھی بلدیاتی انتخابات کے دعوے اور قانون سازی وقت گزارنے کا بہانہ ہے۔ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پی پی پی سب کا طرز عمل ایک ہے۔ انہوں نے وکلا، اساتذہ، تاجروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے مطالبہ کیا کہ حقیقی بااختیار بلدیاتی نظام فوری طور پر نافذ کیا جائے، جس میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں، مالی خودمختاری دی جائے اور عوام کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع ملے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں