تھانہ ڈی ٹائپ کالونی کے ظالمانہ رویہ کیخلاف متاثرین کا پریس کلب کے باہر احتجاج

تھانہ ڈی ٹائپ کالونی کے ظالمانہ رویہ کیخلاف متاثرین کا پریس کلاب کے باہر احتجاج
فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) تھانہ ڈی ٹائپ کالونی کی پولیس کے ظالمانہ رویہ کے خلاف متاثرین کاپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہر ے میں محمد نواز، شہباز علی گلزار، عبدالمحبوب عرف پولا،میاں عابد، محمد ارسلان، مٹھو ڈوگر، یاسر خان، ماسٹر اقبال، محمد افتاب، مظہر حسین، وسیم چیمہ، میاں عبدالغفار، میاں جبار، میاں عامر، دانش حسین،عرفان حسین، میاں نصیر، حمزہ سرویہ،محمد جمیل، چوہدری ندیم، مدثر حسین، منظور ڈھلوں، محمد آصف، عالم حسین، غلام مصطفے، شاہد مغل ودیگراہل علاقہ نے شرکت کی،مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہوئی، جس پر انہوں اور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار محمد نواز نے بتایا کہ سادہ لباس میں ملوث افراد نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے گھر دھاوا بول دیا اس وقت میر ا 8سال کا بیٹا گھر پر موجودتھا جس کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور گھر میں خواتین سے بد زبانی کر نا شروع کر دی اور اسے مالی و جانی نقصان پہنچایا۔جس پر محمد نواز نے آرپی او آفس پولیس کے خلا ف درخواست جمع کروا دی ہے،احتجاج کے دوران شرکا نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ فریق کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ پولیس حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔درج کی گئی ایف آئی آر کے معاملے پر متاثرہ فریق نے پریس کلب فیصل آباد کے باہر احتجاج کیا اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے ان کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، مگر بروقت اور موثر کارروائی نہ ہونے پر وہ احتجاج پر مجبور ہوئے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق درخواست گزار نے مقف اختیار کیا کہ مقررہ تاریخ اور وقت پر ملوث افراد نے باہمی ملی بھگت سے اس کے ساتھ زیادتی کی اور اسے شدید مالی و جانی نقصان پہنچایا۔ واقعے کے بعد متاثرہ فریق نے متعلقہ تھانے میں تحریری درخواست جمع کروائی، جس پر پولیس نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور مطالبہ کیا کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔مظاہرین نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، متاثرہ فریق کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کو جنم دیتے ہیں، جن کا تدارک انتہائی ضروری ہے۔پولیس حکام کے مطابق ایف آئی آر درج کر کے واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں