کسانوں کو بلا سود زرعی قرضے فراہم کئے جائیں

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) کسا ن بورڈ پاکستان کے مرکزی صدر سردار ظفرحسین خا ںنے کہا ہے کہ پاکستا ن میں زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان کے کسان آج شدید مسائل سے دوچار ہیں۔ کھاد، بیج،زرعی ادویات اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کاشتکار کی پیداواری لاگت کو ناقابل بردا شت بنا دیا ہے۔پانی کی قلت، نہری نظام کی خستہ حالی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔حکومتی سطح پر کسانوں کو مناسب سبسڈی اور بروقت زرعی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیںجس سے کسان معاشی دباؤ کا شکار ہے۔زرعی قرضوں کی سخت شرائط کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ پاکستان میں زرعی شعبے کے لیے جامع اور طویل المدتی زرعی پالیسی تشکیل دی جائے جو کسان دوست ہو۔کھاد، بیج، زرعی ادویات ، بجلی اور ڈیزل پر فوری سبسڈی دی جائے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو۔گندم، گنا، کپاس اور دیگر اجناس کی سرکاری امدادی قیمتیں لاگت کے مطابق مقرر کی جائیں اور بروقت خریداری یقینی بنائی جائے۔نہری نظام کی فوری مرمت، پانی کی منصفانہ تقسیم اور جدید آبپاشی طریقوں کو فروغ دیا جائے۔ کسانوں کو بلاسود آسان زرعی قرضے فراہم کیے جائیں۔موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ کسانوں کیلئے فصل بیمہ اور ہنگامی امدادی پیکیج متعارف کرایا جائے۔ زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور کسانوں کی تربیت کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے۔حکومت فوری طور پر جامع زرعی پالیسی بنائے اور کسانوں کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں