آئندہ چند روز میں فیصل آباد چیمبر میں کسٹمز کا ہیلپ ڈیسک قائم کردیا جائیگا،چیف کلکٹر اپریزمنٹ نوید الٰہی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) چیف کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ پنجاب نوید الٰہی نے کہا ہے کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کو بجٹ سے قبل اپریزمنٹ سے متعلقہ جائز مسائل کے حل کیلئے تحریری تجاویزا ور سفارشات پیش کرنی چاہئیں تاکہ اِس کو آئندہ سال کے بجٹ میں منظور کرایا جا سکے۔ وہ فیصل آباد چیمبر میں درآمد اور برآمد کنندگان کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جو مسائل اُن کی سطح کے ہیں اُن کو فوری حل کر دیا جائے گا جبکہ ویلیو ایشن سے متعلقہ مسائل کیلئے ڈائریکٹر جنرل ویلیو ایشن سے بات کی جائے گی تاکہ جو چیز جس ریٹ پر کراچی سے کلیئر ہو رہی ہے اسی ریٹ پر فیصل آباد سمیت ملک بھر کی تمام پورٹس پر کلیئر ہو۔ انہوںنے اس سلسلہ میں مائیکرو فیبرکس ، کمپیوٹر اور کمپیوٹر اسیسریز کی اوور ویلیو ایشن پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے ٹیکسٹائل اور آئی ٹی سے متعلقہ پروگراموں کی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کی فوری روک تھام کی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں فیس لیس پروگرام کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس سے شکایات میں کمی آئی ہے لہٰذا اس پروگرام کو دیگر پورٹس پربھی متعارف کرانے کا جائزہ لیا جائے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں چیف کلکٹر کسٹمز نے کہا کہ کارگو ٹریکنگ پر کام ہو رہا ہے جس پر بہت جلد عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصل آباد کے درآمد اور برآمد کنندگان کے اپریزمنٹ سے متعلقہ مسائل کے حل کیلئے آئندہ چند دنوں میں فیصل آباد چیمبر میںکسٹمز کا ہیلپ ڈیسک قائم کر دیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں درآمدی اور برآمدی مال کی سڑکوں پر چیکنگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ براہ راست انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا ہے اِس لئے فیصل آباد چیمبر کو چیف کلکٹر انفورسمنٹ کو چیمبر میں بلا کے اِن مسائل کا حل نکالنا ہو گا۔ ایس ایم ای سیکٹر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی میںان کا کردار انتہائی اہم ہے اس لئے ان کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔اس سے قبل مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ اس وقت ہمیں تجارتی خسارے کے ساتھ اعتماد کے خسارے کا بھی سامنا ہے جس کو دور کرنے کیلئے سرکاری محکموں اور نجی شعبہ کو مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ سال 2023-24ء میں فیصل آباد ڈرائی پورٹ سے کلیئر ہونے والے کنٹینرز کی تعداد 392تھی جو اب کم ہو کر 9رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال تشویشناک ہے جس کے ازالہ کیلئے مل کر کام کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر میں اس وقت بہت پوٹینشل موجود ہے ۔ اگر ہم اس کو مؤثر انداز میں لیکر چلے تو اس سے ایکسپورٹ کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصل آباد استعمال شدہ مشینری کا اہم مرکز ہے تاہم مقامی ڈرائی پورٹ پر مسائل کی وجہ سے درآمد اور برآمد کنندگان فیصل آباد کی بجائے کراچی سے مال کلیئر کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینک گارنٹی کے نظام کو انشورنس کمپنیوں کی بجائے دوبارہ بینکوں کو دینا چاہیے تاکہ برآمدات کا سلسلہ بلاروک ٹوک جاری رہے۔ سوال و جواب کی نشست میں سابق صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں، چیئرمین پاکستان ہوزری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن احمد افضل اعوان ، چیئرمین ڈرائی پورٹ ٹرسٹ مزمل سلطان، میاں محمد طیب، فیصل پراچہ، رانا فیصل اور صدر انجمن تاجران خواجہ شاہد رزاق سکا نے حصہ لیا۔ رانا محمد سکندر اعظم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ نے چیف کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ پنجاب نوید الٰہی اور کلکٹر کسٹمز فیصل آباد ڈاکٹر رضوان بشارت کو چیمبر کی 50سالہ سالگرہ کے حوالے سے خصوصی کالر پن لگائیں۔ شیلڈ اور تحائف بھی پیش کئے ۔ آخر میں چیف کلکٹر کسٹمز اپریزمنٹ پنجاب نوید الٰہی نے چیمبر کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے اور شرکا کے ہمراہ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں