قائداعظم کی جدو جہد احتجاجی سیاست سے پاک تھی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)بانی پاکستان حضر ت قائد اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد احتجاجی سیا ست سے مکمل طور پر پاک تھی ۔ انہوں نے پاکستا ن کا مقدمہ بھی آئینی اور قانونی جدوجہد کے ذریعے جیتا۔ یہ بات گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر مشتاق نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے آرٹ اینڈ کلچر کے ذریعہ اہتمام یوم قائد اور کرسمس کی مشترکہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کی صدارت فیصل آباد چیمبر کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کی ۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر نے کہا کہ محمد علی جناح کا شمار گزشتہ صدی کے عظیم ترین مدبرین میں ہوتا ہے جنہوںنے اس وقت کی مقتدر قوتوں سے لڑائی کی بجائے انہیں عالمی، قانونی ، آئینی اور تاریخی حقائق کے پس منظر میں برصغیر پاک و ہند میں ایک خود مختار اسلامی مملکت کے قیام کیلئے قائل کیا۔ انہوںنے کہا کہ قائد اعظم کی جدوجہد کے صحیح ادراک کیلئے اس دور کے زمینی حقائق کو سمجھنا ضروری ہے جبکہ ایک طرف مسلمان انگریز کے تسلط سے آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف آزادی کے بعد اُن پر ہندوئوں کی بالا دستی کے خطرات منڈ لا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے انتہائی بصیرت اور دور اندیشی سے سب سے پہلے مسلمانوں کی الگ شناخت کو نمایاں کیا اور پھر دو قومی نظریہ کے ذریعے ثابت کیا کہ مسلمانوں کیلئے اپنی انفرادی شناخت کیلئے الگ مملکت کا قیام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن سیاسی جدوجہد سے ہی قیام پاکستان کا معجزہ معرض وجود میں آیا جبکہ تحریک خلافت کی پر تشدد تحریک میں کہیں بھی قائد کا کردار نظر نہیں آتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں