فیصل آباد (سٹاف پورٹر) چوہدری محمد اشفاق کہوٹ، وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل، اور ذبیح اللہ ناگرہ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ فاضل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، لاہور کی جانب سے حکومتِ پنجاب کے غیر آئینی، غیر قانونی اور بنیادی حقوق سے متصادم اونرشپ پراپرٹی آرڈیننس کے نفاذ کو روکنے کے لیے جاری کیے گئے احکامات آئینِ پاکستان، قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے مکمل عکاس ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب بار کونسل کی جانب سے وزیرِ اعلی پنجاب سے واضح طور پر مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ عدالتی حکم کے بعد دیا گیا اپنا غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ بیان واپس لیں، مگر تاحال نہ صرف یہ بیان واپس نہیں لیا گیا بلکہ حکومتِ پنجاب، اس کے وزرا، مشیروں اور دیگر نمائندوں کی جانب سے عدلیہ اور بالخصوص عزت مآب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، لاہور کے خلاف مسلسل ٹرولنگ اور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جو انتہائی قابلِ مذمت اور آئینی اقدار کے منافی ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ عدلیہ پر بے جا تنقید اور کردار کشی دراصل آزاد عدلیہ کو دبانے اور کمزور کرنے کی کوشش ہے، جس سے وکلا برادری میں شدید تشویش اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ وکلا برادری واضح کرنا چاہتی ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی، آئین کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی بذاتِ خود ایک غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل ہے۔ اونرشپ پراپرٹی آرڈیننس کے تحت شہریوں کو منصفانہ سماعت، وکیل مقرر کرنے اور شفاف عدالتی طریقہ کار سے محروم کیا جا رہا ہے، جو آئینِ پاکستان میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلا برادری نے ماضی میں بھی عدلیہ کی آزادی اور آئین کی سربلندی کے لیے قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی عدلیہ کے وقار پر آنچ نہیں آنے دی گی۔ پنجاب بار کونسل حکومتِ پنجاب کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر عدلیہ مخالف بیانات اور طرزِ عمل سے باز آئے۔مشترکہ بیان کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ حکومتِ پنجاب کے عدلیہ مخالف رویے کے خلاف تحریک شروع کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے مورخہ 29 دسمبر 2025 بروز سوموار پنجاب بھر میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے اورکہا ہے اگروزیرِ اعلیٰ پنجاب نے فی الفور اپنا بیان واپس نہ لیا تو پنجاب بار کونسل آئینی، قانونی اور جمہوری دائرہ کار میں رہتے ہوئے احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔




