ایف ڈی اے انتظامیہ کا ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن کرنا شاندار کارنامہ ہے،محمد آصف چوہدری

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ایف ڈی اے انتظامیہ نے تیز رفتار سروس ڈلیوری کے لیے سال 2025میں ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کرکے شاندار کامیابی حاصل کی ہے جس کی بدولت جائیدادوں کے اونرشپ کلیئرنس سرٹیفیکیٹس سمیت دیگر سروسز ریئل ٹائم میں فراہم کی جا رہی ہیں علاوہ ازیں اس سال کے دوران سالانہ ترقیاتی پروگرا م کے تحت عوامی فلاح و بہبود کی 36 ترقیا تی سکیمیں مکمل اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (GIS)کی بنیاد پر کمرشل روڈز کا سروے کرکے نادہندگان سے 31کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی۔ یہ بات جنرل ڈائریکٹر ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے ایک اجلاس میں مختلف شعبوں کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بتائی۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے قیصر عباس رند، چیف انجینیئر مہر ایوب، ڈائریکٹرز اسما محسن، جنید حسن منج، یاسر اعجاز چٹھہ سہیل مقصود پنوں و دیگر افسران اجلاس میں موجود تھے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ڈیجیٹائزیشن کے منصوبے کی تکمیل کے بعد 9685 ای چالان آن لائن جاری کر کے 48 کروڑ 58 لاکھ روپے کی وصولی ہوئی اور ادارہ میں ای فائلنگ آفس آٹومیشن سسٹم نافذ کیا گیا جس کے تحت سرکاری اداروں سے تمام کمیونیکیشن اور محکمانہ رپورٹس ڈیجیٹل طریقے سے ہو رہی ہے۔ سال 2025 میں ادارہ کے مالیاتی استحکام کے لیے کئے گئے متعدد اقدامات کے نتیجہ میں 15 کروڑ روپے سے زائد ایف ڈی اے کی ملکیتی مختلف ہاسنگ سکیموں میں یوٹیلٹی سروسز کی بعض جائیدادوں کو نیلام عام کے ذریعے فروخت کیا گیا جبکہ ایف ڈی اے سٹی میں اربوں روپے مالیت کے پلاٹس/ اراضی ایف بی ار، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو فروخت کرنے کی کارروائی زیر عمل ہونے کے علاوہ پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاسنگ فانڈیشن سے اراضی کی فراہمی کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔ ڈی جی ایف ڈی اے نے بتایا کہ سپورٹس کمپلیکس ایف ڈی اے سٹی کی توسیع کے لیے ماسٹر پلاننگ کرکے مختلف منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ شائقین کی دلچسپی کے لیے وہاں پیڈل ٹینس کورٹ تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرائیویٹ ہاسنگ سکیموں میں بلڈنگ کنٹرول کے اختیارات ایف ڈی اے حاصل کر کے نہ صرف منظم ٹان پلاننگ کے لیے اقدامات کیے ہیں بلکہ ان اختیارات کی بدولت ادارہ کو خاطر خواہ ریونیو بھی وصول ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی ہاسنگ سکیموں کے خلاف بھرپور آپریشن جاری رہا اور غیر قانونی ڈویلپمنٹ پر عائد کروڑوں روپے کے جرمانے وصول کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کے بل میں بچت کے لیے ایف ڈی اے کمپلیکس کو سولر انرجی پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کمپلیکس کی بلڈنگ کو نئے ڈیزائن کی تعمیر کے تحت جاذب نظر اور تاریخی نوعیت کی شکل دی گئی اور تمام دفاتر کی تزئین و بحالی کر کے بہترین ورکنگ ماحول پیدا کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گرین پنجاب پروگرام کے تحت ایف ڈی اے کے زیر اہتمام پرائیویٹ ہاسنگ سکیموں سمیت دیگر دستیاب جگہوں پر 20 ہزار سے زائد پودے لگائے گئے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ نئے سال میں ترقیاتی و انتظامی اہداف مقرر کر کے ان کے حصول کے لئے نئے جذبے اور عزم و ہمت سے فرائض انجام دئیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں