غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) تین ماہ قبل نافذ ہونے والی ایک کمزور جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق، اکتوبر کے اوائل سے اسرائیلی قبضے میں موجود فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور40لڑکیاں جان کی بازی ہار چکے ہیں ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں100سے زائد بچے مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے غزہ سٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی تقریبا ہر روز ایک بچہ یا بچی جان سے جا رہی ہے۔ایلڈر کے مطابق غزہ میں بچے خودکش ڈرون حملوں سمیت فضائی حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری، براہِ راست فائرنگ اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے ہلاک کیے جا رہے ہیں۔ہم 100 کے ہندسے پر پہنچ چکے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، بلکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی جنگ بندی جو بمباری کی رفتار تو کم کرے مگر بچوں کو ملبے تلے دفن کرتی رہے، وہ کافی نہیں ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق، اس کمزور جنگ بندی کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 165 ہے، جبکہ مجموعی ہلاکتیں 442 تک پہنچ چکی ہیں۔وزارتِ صحت کیمطابق ان تمام ہلاکتوں کے علاوہ رواں سال کے آغاز سے اب تک سردی کی شدت کے باعث 7 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔جیمز ایلڈر نے زور دیا کہ یہ حملے 2 سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد ہو رہے ہیں، جس نے غزہ کے بچوں کی زندگی کو ناقابلِ تصور حد تک مشکل بنا دیا ہے۔بچے آج بھی خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ نفسیاتی صدمے کا علاج نہیں ہو سکا اور جتنا یہ سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی یہ زخم گہرا اور ناقابلِ علاج بنتا جا رہا ہے۔گزشتہ برس نومبر میں غزہ کی مقامی انتظامیہ نے بتایا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے جواب میں شروع کی گئی اسرائیلی جنگ کے بعد سے اب تک غزہ میں 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، مسلسل فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں غزہ کی تقریبا 80 فیصد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں۔یکم جنوری کو اسرائیل نے 37 بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو غزہ میں داخلے سے روک دیا، جسے اقوامِ متحدہ نے اس وقت انتہائی اشتعال انگیز اقدام قرار دیا تھا۔جیمز ایلڈر کے مطابق بین الاقوامی این جی اوز اور انسانی امداد کو روکنا دراصل زندگی بچانے والی مدد کو روکنے کے مترادف ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ یونیسیف اکتوبر کے بعد سے غزہ میں امداد کی مقدار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم زمینی سطح پر شراکت داروں کی ضرورت ہے، اور موجودہ امداد اب بھی ضرورت پوری نہیں کر پا رہی۔جب اہم امدادی تنظیموں کو انسانی امداد پہنچانے اور حقائق دنیا کے سامنے لانے سے روکا جائے، اور غیر ملکی صحافیوں پر پابندی ہو، تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آیا مقصد بچوں کی تکالیف کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا تو نہیں۔




