مچھر انسانوں کو ہی زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟

براسیلیا (مانیٹرنگ ڈیسک) برازیل میں ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں مچھر اب انسانوں کے خون پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ ریو ڈی جنیرو کی وفاقی یونیورسٹی اور اوسوالڈو کروز انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے برازیل کے اٹلانٹک فارسٹ میں واقع دو قدرتی ریزورٹس میں لائٹ ٹریپس نصب کر کے 52 مختلف اقسام کے مچھروں کا مطالعہ کیا۔ تحقیقی نتائج سے پتہ چلا کہ مچھر اب انسانوں کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں، محققین کا کہنا ہے کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے نتیجے میں مچھروں کے پاس قدرتی خون کے ذرائع میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے وہ زیادہ تر انسانوں کو کاٹنے لگے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جیسے جیسے حیاتیاتی تنوع کم ہو رہا ہے، مچھروں کا انسانوں کو نشانہ بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی سرگرمیاں بڑھنے کے ساتھ ساتھ دیگر جانوروں کی موجودگی کم ہو گئی ہے، جس کے باعث مچھروں کے لیے بقا اور خوراک کے ذرائع محدود ہو گئے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھروں کی خوراک کے عادات کو بہتر طور پر سمجھ کر بیماریوں کے پھیلا کو روکنے کے لیے موثر تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں۔ مچھر نہ صرف جلدی خارش کا باعث بنتے ہیں بلکہ یہ متعدد خطرناک بیماریوں کے منتقلی کا بھی ذریعہ ہیں، جن میں ملیریا، ڈینگی اور چکن گونیا شامل ہیں۔ اس لیے انسانوں کو کاٹنے کا رجحان صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں