عوام کو یکم جولائی سے نافذ پراپرٹی ٹیکس کے خود تشخیصی نظام سے فائدہ اٹھانا چاہیے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)عوام کو یکم جولائی سے نافذ پراپرٹی ٹیکس کے خود تشخیصی نظام سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ بات فیصل آباد کے ڈائر یکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن تنویر عباس گوندل نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے لوگوں کی سہولت کیلئے گزشتہ دو سالوں کے دوران کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن کو چیمبر اور تاجروں کے نمائندوں کی مدد سے مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 60سالوں سے کرایہ کی بنیاد پر پراپرٹی ٹیکس کی تشخیص ہوتی تھی لیکن اب ہائبرڈ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود تشخیصی نظام سے ملازمین کی مداخلت کو کم کیا گیا ہے تاکہ مالکان اپنی مرضی سے پراپرٹی ٹیکس کی تشخیص کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت پہلے سے ملنے والے استثنیٰ کو ختم کر دیا گیا ہے جن میں بیوگان کو ملنے والی رعایتیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں متعلقہ سٹاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شکایات آنے سے قبل ہی اس استثنیٰ کو بحال کر دیں اور کوشش کی جائے گی کہ بیوگان کو زیادہ فیس کے نوٹس جاری ہی نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈی سی ریٹ ہر سال بڑھے گا تو اس حساب سے ٹیکس Assessmentمیں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے چیمبر کے صدر سے کہا کہ وہ جون جولائی میں اسسمنٹ ریٹ فائنل ہونے سے قبل ڈی سی آفس سے رابطہ کریں تاکہ زمینی حقائق کے مطابق پراپرٹی کے نرخوں کا تعین کیا جا سکے۔ این او سی کے باوجود بقایا جات کے نوٹس ملنے کے بارے میں تنویر عباس گوندل نے کہا کہ یہ طریقہ کار غلط ہے تاہم سسٹم میں بہتری کے ساتھ ہی یہ شکایات ختم ہو جائیں گی۔ ٹوکن ٹیکس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ دس سال قبل ڈاکخانوں میں ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی ہوتی تھی مگر اب نظام کو ختم کر دیا گیا ہے اور لوگ از خود آن لائن ٹوکن ٹیکس جمع کر اسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر کے ایک ممبر نے اپنی گاڑی کی رجسٹریشن 2کروڑ 20لاکھ روپے میں کرائی جس کیلئے وہ ان کے مشکور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کے پہلے دورہ چیمبر کے دوران ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ چیمبر کے ممبران کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ واضح طور پر ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کیلئے فیکٹریوں ، سکولوں اور دیگر اداروں کو سیل کرنے سے گریز کیا جائے ۔ انہوں نے بزنس کمیونٹی سے بھی کہا کہ وہ پروفیشنل ٹیکس کے چالان کی رقم کسی کو کیش میں نہ دیں بلکہ خود بینک میں جمع کرائیں۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے متعلقہ مسائل بیان کئے اور کہا کہ کاروباری نمائندوں کے ساتھ مشاورت میں ڈی سی کی شرحوں کو زمینی حقائق کے مطابق لایا جائے اورکسی بھی تادیبی کارروائی کرنے سے پہلے نوٹس جاری کرنے کا منظم سسٹم نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو غیر ضروری سزاؤں سے بچانے کے لیے بقایا جات کی پیشگی اطلاع کا طریقہ کار اختیار کیا جائے اور ٹیکس میں چھوٹ اور کمی کے لیے ایک شفاف طریقہ کار بنایا جائے۔ اسی طرح غیر ضروری تاخیر کو روکنے کے لیے دوبارہ تشخیص کے معاملات کے لیے وقت کا تعین کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس وصولی کو زیادہ شفاف اور موثر بنانے کے لیے محکمانہ بدعنوانی کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے پورے ڈیجیٹل نظام کو مصنوعی ذہانت (AI) سے منسلک کیا جائے تاکہ اس کی خامیوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ نئے ٹیکس دہندگان کا بھی پتہ چلایا جائے ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ تمام ٹیکس دہندگان کو دستی پراپرٹی ٹیکس کے نوٹس بھیجنے کی بجائے آن لائن نوٹس ارسال کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسیشن کے ڈیجیٹلائز نظام کی خامیوں اور کوتاہیوں کو جلد دور کیا جائے اور مقررہ مدت سے قبل ٹیکس ادا کرنے والوں کو پانچ فیصد کی بجائے دس فیصد کی رعایت دی جائے۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں نائب صدر انجینئر عاصم منیر، بائو محمد اکرم، محمد علی ، عبیداللہ شیخ، وحید خالق رامے، محمد اشرف مغل، ریحان اشفاق ، رانا عبدالغفور، محمد مصطفی، حاجی محمد عطاء اللہ، خالد حیات کموکا، جنید بیگ، عامر اعجاز، زاہد بٹ ، چوہدری طلعت محمود، محمد یوسف اور شہزاد محمد نے حصہ لیا جبکہ سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ آخر میں صدر فاروق یوسف شیخ نے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں