مقبول روڈ کے اسٹار مل اسٹریٹ میں سیوریج نظام تباہ،علاقہ میں گندے پانی کے جوہڑ بن گئے،امراض پھیلنے کا خطرہ

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) مقبول روڈ کے اسٹار مل اسٹریٹ میں سیوریج لائن کی خرابی کے باعث علاقے میں گندے پانی کے جوہرے بن جانے کے کئی روز گزرنے کے باوجود تاحال کوئی عملی کام شروع نہ ہو سکا، جس پر علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ گٹر لائن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور گندا پانی سڑک پر بہہ رہا ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے بلکہ علاقے میں تعفن اور وبائی امراض پھیلنے کا بھی شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق اسٹار مل اسٹریٹ میں سیوریج لائن کی خرابی کے باعث سڑک کئی مقامات سے بیٹھ چکی ہے اور جگہ جگہ گہرے جوہرے بن گئے ہیں۔ ان جوہروں میں گندا پانی جمع ہو کر بدبو پھیلا رہا ہے، جس سے آس پاس کی دکانوں اور گھروں میں رہنا دوبھر ہو چکا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ بارہا واسا حکام کو شکایات درج کروائی گئیں مگر افسوسناک طور پر ابھی تک کوئی ٹیم موقع پر نہیں پہنچی۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ گندے پانی کے باعث بچوں، بزرگوں اور خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ موٹر سائیکل سوار آئے روز پھسل کر گر رہے ہیں جبکہ پیدل چلنے والوں کے لیے سڑک عبور کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں رہا۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ بدبو اور گندگی کے باعث گاہک آنا چھوڑ گئے ہیں جس سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سیوریج کا یہ مسئلہ کئی دنوں سے برقرار ہے مگر متعلقہ محکمے کی جانب سے محض وعدے ہی کیے جا رہے ہیں، عملی طور پر کوئی کام شروع نہیں ہوا۔ اہلِ علاقہ نے الزام عائد کیا کہ شکایات کے باوجود واسا افسران کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث مسئلہ جوں کا توں ہے، جو ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔علاقہ مکینوں نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر سیوریج لائن کی مرمت اور گندے پانی کی نکاسی کا بندوبست نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور علاقے میں ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر کے سڑک کو قابلِ آمدورفت بنایا جائے۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور اعلی حکام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور واسا کو فوری احکامات جاری کریں تاکہ عوام کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات مل سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مزید تاخیر کی گئی تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ ہے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ محکمے پر عائد ہو گی۔آخر میں اہلِ علاقہ نے کہا کہ شہری ٹیکس دیتے ہیں مگر بدلے میں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیوریج نظام کی بہتری کے لیے مستقل بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ اس طرح کے مسائل دوبارہ پیدا نہ ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں