ماموں کانجن کو نئی تحصیلوں میں شامل نہ کرنا زیادتی ہے

ماموں کانجن(نامہ نگار)حکومت پنجاب کی جانب سے نئی مجوزہ تحصیلوں میں میونسپل کمیٹی ماموں کانجن کو شامل نہ کرنا یہاں کے لوگوں نہ صرف حق تلفی بلکہ زیادتی ہے،ماموں کانجن کو تحصیل بنانے کے لئے بھر پور انداز میں آواز بلند کریں گے ان خیالات کا اظہار مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے ناظم مولانا عبدالرشید حجازی، صحافی سلیم دیوانہ۔ چوہدری ندیم اقبال گجر،صحافی زبیر شیخ ودیگر نے جامعہ تعلیم السلام ماموں کانجن میں تاجروں،علما، سیاسی،سماجی جماعتوں کے نمائندوں اور صحافیوں کے مشترکہ اجلاس میں کیا اجلاس میں پنجاب حکومت کے اس فیصلے پر گہری تشویش کااظہار کیا گیا کہ فیصل آباد میں پانچ نئی مجوزہ تحصیلوں میں ماموں کانجن کو شامل نہیں کیا گیاانہوں نے کہا کہ میونسپل کمیٹی ماموں کانجن رقبے،ریونیو،آبادی اور فاصلہ سمیت ہر لحاظ سے تحصیل بننے کے قابل ہے جو کئی سال پہلے بن جانی چاہئیے تھی مگر شو مئی قسمت کہ ماموں کانجن کو تحریک بنانے کی تحریک کے باوجود اسے آج تک نظرانداز کیاگیا اور اب فیصل آباد کی نئی مجوزہ تحصیلوں میں بھی ماموں کانجن کو شامل نہ کرنا یہاں کے لاکھوں لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے انہوں نے وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ اہل ماموں کانجن کے جذبات و احساسات کو محسوس کرتے ہوئے ماموں کانجن کو بھی فیصل آباد کی نئی مجوزہ تحصیلوں کی لسٹ میں نہ صرف شامل کیا جائے بلکہ بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے کیونکہ قصبہ ماموں کانجن ان تمام مجوزہ تحصیلوں سے بڑا اور اہم قصبہ ہے جسکی عوام عرصہ دراز سے تحصیل پہنچنے کے لئے 50کلو میٹر ایک اور50کلو میٹر واپسی کا سفر کرکر کے تھک گئی ہے جبکہ وہاں کے لئے کوئی معقول ٹرانسپورٹ بھی میسر نہیں ہے.واضح رہے چوہدری رضوان کاہلوں ۔چوہدری عثمان کا ہلوں کی قیادت میں عرصہ دراز سے تحصیل بناو تحریک ماموں کانجن کی تحریک چل رہی اسے بھی نظر انداز کیا جارہا ہے جو ماموں کانجن کی عوام سے سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں