کمالیہ کے بارے میں تاثر غلط ہے کہ لاوارث ہو چکا

کمالیہ(نامہ نگار)سربراہ سنی علما کونسل پاکستا ن مولانا محمد احمد لدھیانوی نے جامعہ مسجد فاروقیہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمالیہ شہر کے بارے میں یہ تاثر غلط ہے کہ یہ لاوارث ہو چکا ہے ۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ علاقے میں کئی اہم ترقیاتی منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے ، جن میں سب سے اہم ون وے روڈ کا قیام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم فور اور ایم تھری موٹرویز کے قیام سے جہاں کمالیہ کو فائدہ پہنچا ہے ، وہیں شہر کے باسیوں کو شدید مشکلات کا بھی سامنا ہے ۔ لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں کو جانے والی ٹریفک کمالیہ سے گزرنے کے باعث آئے روز ٹریفک حادثات معمول بن چکے ہیں، جن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے ۔ مولانا لدھیانوی نے سوال اٹھایا کہ جب رجانہ موٹروے سے ٹوبہ ٹیک سنگھ موٹروے انٹرچینج تک ون وے روڈ تعمیر کیا جا رہا ہے تو کمالیہ میں یہ سہولت کیوں فراہم نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم انجمن تاجران کی جانب سے منعقدہ ون وے روڈ سیمینار کو منسوخ کروانے کا مقصد یہی تھا کہ پہلے اربابِ اختیار سے براہِ راست بات کی جائے ۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ذاتی حیثیت میں اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے متعلقہ حکام سے ملاقات کریں گے اور انہیں کمالیہ میں جلد از جلد ون وے روڈ کی تعمیر پر قائل کریں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ منتخب نمائندوں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں ترقیاتی کام مکمل کروا سکیں۔ مولانا لدھیانوی نے کہا کہ یہ کمالیہ کی خوش قسمتی ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ کا تعلق اسی شہر سے ہے ، اور اگر وہ چاہیں تو اکیلے ہی کمالیہ میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ون وے روڈ کا قیام نہ ہونا افسوسناک ہے ، حالانکہ ارباب اختیار کو اس سڑک پر ہونے والے حادثات اور جانی نقصانات کا بخوبی علم ہے ۔ انہوں نے تاجر برادری اور صحافیوں کی جانب سے اس مسئلے کو مسلسل اجاگر کرنے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ پریس کانفرنس کے موقع پر سپریم انجمن تاجران کے مرکزی عہدیداران بھی موجود تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں