کینسر کا دوبارہ پھیلا ؤ’وجہ دریافت

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک )گزشتہ چند دہائیوں میں کینسر کے علاج میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایک خوفناک مسئلہ اب بھی موجود ہے اور وہ ہے کینسر کا دوبارہ لوٹ آنا۔ اکثر مریض سرجری، کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کے بعد یہ سن کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ کینسر ختم ہو چکا ہے، مگر بعض اوقات برسوں بعد یہی بیماری زیادہ شدت کے ساتھ واپس آ جاتی ہے، جس کی وجہ طویل عرصے تک معمہ بنی رہی۔ماہر ین تحقیق اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کینسر کے دوبارہ ظاہر ہونے کی ایک بڑی وجہ کینسر اسٹیم سیلز نامی خلیات کا ایک نہایت چھوٹا مگر خطرناک گروہ ہے۔ یہ خلیات عام کینسر سیلز سے بالکل مختلف انداز میں کام کرتے ہیں۔جہاں زیادہ تر کینسر کے خلیات تیزی سے بڑھتے ہیں اور کیموتھراپی کی زد میں آ جاتے ہیں، وہیں کینسر اسٹیم سیلز جسم میں چھپ جاتے ہیں۔ یہ خلیات طویل عرصے تک غیر فعال حالت میں رہتے ہیں، جیسے گہری نیند میں ہوں۔ چونکہ کیموتھراپی تیزی سے بڑھنے والے خلیات کو نشانہ بناتی ہے، اس لیے یہ خاموش اسٹیم سیلز علاج سے بچ جاتے ہیں اور بعد میں جاگ کر نئے ٹیومر بنا سکتے ہیں۔ تحقیق کا مرکز گلیکوسامینوگلیکینز ہیں، جو قدرتی شوگر چینز ہوتی ہیں اور تقریبا ہر انسانی خلیے کی سطح کو ڈھانپے رکھتی ہیں۔یہ مالیکیولز خون کے جمنے، سوزش، خلیاتی افزائش اور خلیوں کے درمیان رابطے جیسے اہم عمل میں کردار ادا کرتے ہیں، مگر بیماریوں میں ان کے درست کردار کو ابھی مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا۔پروفیسر دیسائی کا خیال تھا کہ گلیکوسامینوگلیکینز صرف قدرتی حفاظتی تہہ نہیں بلکہ نئی ادویات کی بنیاد بھی بن سکتی ہیں۔ اگرچہ قدرتی گلیکوسامینوگلیکینز جیسے ہیپرین پہلے ہی خون پتلا کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، مگر ان میں معیار کا فرق اور مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے دیسائی کی لیبارٹری نے گلیکوسامینوگلیکینز کے مصنوعی اور محفوظ نمونے تیار کرنا شروع کیے۔اس طویل تحقیق کے نتیجے میں ایک نیا مالیکیول G2.2 تیار کیا گیا، جسے پروفیسر دیسائی نے کولوریکٹل اور نظامِ ہاضمہ کے کینسر کے ماہر ڈاکٹر بھومک پٹیل کے اشتراک سے بنایا۔پروفیسر دیسائی کینسر اسٹیم سیلز کو سردیوں میں سونے والے ریچھ سے تشبیہ دیتے ہیں، جو اپنے بل میں محفوظ رہتا ہے اور کسی خطرے کی زد میں نہیں آتا۔ اسی طرح کینسر اسٹیم سیلز کیموتھراپی سے بچ جاتے ہیں، مگر G2.2 کا طریقہ کار مختلف ہے۔یہ مالیکیول اسٹیم سیلز پر موجود ایک مخصوص ریسیپٹر سے تعامل کر کے انہیں غیر فعال حالت سے باہر نکالتا ہے، جس کے بعد خلیوں کے اندر ایسے سگنلز پیدا ہوتے ہیں جو ان کی موت کا سبب بنتے ہیں۔تحقیق کے دوران G2.2 کو مختلف لیبارٹری ماڈلز میں آزمایا گیا، جہاں اس نے کولوریکٹل کینسر میں موجود خاموش اسٹیم سیلز کو تقریبا مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اسی طرح پھیپھڑوں، دماغ، گردوں اور لبلبے کے کینسر کے ماڈلز میں بھی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طریقہ مختلف اقسام کے ٹیومرز میں مثر ہو سکتا ہے۔مزید یہ کہ ابتدائی تجربات میں G2.2 محفوظ ثابت ہوا اور اس کے نمایاں زہریلے اثرات سامنے نہیں آئے۔ تحقیق کے مطابق یہ مالیکیول مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتا ہے اور ٹی سیلز کو متحرک کرتا ہے، جو قدرتی طور پر کینسر کے خلاف لڑتے ہیں۔اگرچہ G2.2 اس وقت پری کلینیکل مرحلے میں ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ کینسر کے علاج میں ایک نئی امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دوا صرف تیزی سے بڑھنے والے ٹیومرز کو نشانہ بنانے کے بجائے کینسر کی ان پوشیدہ جڑوں پر حملہ کرتی ہے جو بیماری کے دوبارہ لوٹنے کا سبب بنتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں