غیر قانونی قبضہ کرنے پر5سے10سال قید،1کروڑ تک جرمانہ ہوگا

لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے پراپرٹی ایکٹ 2025 میں ترامیم کی مسودہ تیار کر لی ہے، جسے صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ نئی ترامیم کے تحت غیر قانونی قبضے کے خلاف کارروائی مزید سخت اور تیز ہو جائے گی، جبکہ پراپرٹی ٹربیونل کے قیام سے پراپرٹی تنازعات کا حل جلد ممکن ہو گا۔نئے قوانین کے مطابق پراپرٹی ٹربیونل میں کیسز براہِ راست دائر ہوں گے، اور ٹربیونل کو عبوری ریلیف، حفاظتی اقدامات، اور فوری قبضہ واگزار کروانے کا مکمل اختیار ہوگا۔غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کو 5 سے10سال قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔اسی طرح جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی درخواست دینے پر بھی سخت سزا مقرر کی گئی ہے، جس میں 1 سے 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ شامل ہے۔اپیل کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا گیا ہے۔ اب اپیل صرف لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی جا سکے گی، اور اپیل کے لیے پراسیکیوٹر جنرل کی منظوری لازمی ہو گی۔ اپیل 30 دن کے اندر دائر کی جائے گی اور چیف جسٹس کے نامزد کردہ بینچ میں سنائی جائے گی، جسے 30 دن میں فیصلہ کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں