پاکستان نےAIکی عالمی دوڑ میں بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا

اسلام آباد ( بیو رو چیف )مصنوعی ذہانت (اے آئی)محض مستقبل کی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ یہ دورِ حاضر میں قوموں کی انتظامی صلاحیت اور ریاستی نظم و ضبط کو جانچنے کا ایک نیا پیمانہ بن چکی ہے۔سال 2026ء ٹیکنالوجی کی تاریخ میں اس لحاظ سے یاد رکھا جائے گا کہ پاکستان اور بھارت نے عالمی سطح پر اپنی اے آئی قیادت (AI Leadership) ثابت کرنے کے لیے میدان سجایا۔ تاہم، ان دونوں ایونٹس کے اختتام پر جو تصویر ابھری، اس نے واضح کر دیا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں اصل فتح شور و غوغا کی نہیں بلکہ نظام اور نظم و ضبط کی ہوتی ہے۔بھارت نے نئی دہلی کے پرشکوہ بھارت منڈپم میں AI Impact Summit کا انعقاد کیا، جس کا مقصد دنیا کو اپنی عددی برتری اور تکنیکی حجم سے متاثر کرنا تھا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ایونٹ کے آغاز سے ہی بدانتظامی نے اثر ڈالنا شروع کر دیا؛ ہزاروں طلبہ اور شرکا رجسٹریشن کے باوجود دروازوں پر خوار ہوتے رہے، سیکیورٹی کے نام پر گیٹس اچانک بند کر دیے گئے اور انٹرنیٹ (وائی فائی) جیسے بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نے جواب دے دیا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسٹارٹ اپس کے آلات غائب ہونے کی شکایات سامنے آئیں اور ملک کے آئی ٹی وزیر کو عوامی سطح پر معذرت کرنی پڑی۔ سوشل میڈیا پر غصے کی لہر نے اس ایونٹ کے اصل مقصد یعنی اے آئی مباحث کو پس منظر میں دھکیل دیا، اور بھارت کا دعوی بدانتظامی کے ملبے تلے دب گیا۔دوسری جانب، پاکستان نے Indus AI Week کے ذریعے ایک بالکل مختلف اور متاثر کن حکمت عملی اپنائی۔ پاکستان نے کسی ایک مقام پر ہجوم جمع کرنے کے بجائے ملک کے 30 مختلف شہروں میں 95 سے زائد ایونٹس کا جال قائم کیا۔ اس وسیع نیٹ ورک کے باوجود پورے ہفتے کے دوران کسی بھی جگہ سے بدانتظامی یا تکنیکی خرابی کی شکایت موصول نہیں ہوئی۔پاکستان کی کامیابی کا راز اس کی ادارہ جاتی ہم آہنگی میں تھا۔ تمام سیشنز بلا رکاوٹ اور مسلسل ہوئے، ڈیجیٹل سسٹمز بلاتعطل کام کرتے رہے، اور ماہرین پرسکون ماحول میں پالیسی سازی پر توجہ مرکوز رکھتے رہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ اے آئی کی قیادت صرف بڑے ہالز اور غیر ملکی مہمانوں سے نہیں، بلکہ ایک مربوط نظام اور اس کے کامیاب نفاذ سے حاصل ہوتی ہے۔بھارت اور پاکستان کے حالیہ اے آئی پروگرامز کا موازنہ کیا جائے تو دونوں کی حکمت عملی میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ بھارت نے اپنے ایونٹ میں بڑے پیمانے پر نمائش اور عددی برتری پر زور دیا، لیکن وہ شدید بدانتظامی، انٹرنیٹ کی ناکامی اور عوامی احتجاج کا شکار رہا، جس کی وجہ سے یہ پروگرام محض ایک وقتی اور ناکام نمائش بن کر رہ گیا۔اس کے برعکس، پاکستان نے انڈس اے آئی ویک کے ذریعے ٹھوس پالیسی سازی، بہترین تنظیمی ڈھانچے اور مکمل نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ جہاں بھارت کو تکنیکی مسائل اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا، وہاں پاکستان نے بلا تعطل سیشنز اور تعلیمی ہم آہنگی کے ذریعے ایک مستحکم نظام کی صلاحیت ثابت کی۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ اے آئی کی عالمی دوڑ میں جیت محض اسکیل دکھانے کی نہیں بلکہ نظام اور تیاری کی ہے۔اے آئی کے اس عالمی مقابلے نے ایک اہم سبق سکھایا ہے: ٹیکنالوجی بغیر انتظام کے محض ایک بوجھ ہے۔ بھارت نے سائز اور تعداد پر زور دیا، لیکن وہ گورننس کے امتحان میں پیچھے رہ گیا۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کو اپنا سکتا ہے بلکہ اسے عالمی معیار کے مطابق منظم بھی کر سکتا ہے۔آنے والے وقت میں دنیا صرف اس ملک پر بھروسہ کرے گی جس کا نظام مستحکم ہو، جہاں پالیسی کا عملدرآمد یقینی ہو، اور جہاں ٹیکنالوجی عام آدمی کے لیے سہولت بنے نہ کہ اذیت۔ 2026 کے ان واقعات نے ثابت کر دیا کہ اے آئی کی دوڑ میں پاکستان نے سسٹمز کی جنگ جیت کر خود کو ایک ذمہ دار اور تیار ڈیجیٹل ریاست کے طور پر منوا لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں