پاکستان کی سیمی فائنل میں رسائی’اگر مگر کا کھیل شروع

کولمبو (سپورٹس نیوز) پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں مگر مکمل ختم نہیں ہوئے انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کو اپنے آخری میچ میں فتح حاصل کرنا ہوگی اور دیگر میچوں کے نتائج بھی پاکستان کے حق میں جانے چاہئیں۔پاکستان سپر 8 مرحلے کا اپنا آخری میچ 28 فروری کو سری لنکا کے خلاف کھیلے گا۔ اس وقت پاکستان کے پاس ایک پوائنٹ ہے جبکہ انگلینڈ نے پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے سری لنکا کو شکست دینا ضروری ہے تاکہ تین پوائنٹس مکمل ہو جائیں۔ تاہم صرف جیت کافی نہیں، نیوزی لینڈ کے نتائج بھی اہم ہوں گے۔ اگر نیوزی لینڈ دونوں بقیہ میچ ہار دیتا ہے تو پاکستان دوسرے نمبر پر سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتا ہے۔اگر پاکستان جیت جاتا ہے لیکن نیوزی لینڈ ایک میچ جیت لیتا ہے تو دونوں ٹیمیں تین تین پوائنٹس پر پہنچیں گی اور سیمی فائنل کی جگہ نیٹ رن ریٹ کے حساب سے ملے گی۔دوسری طرف اگر پاکستان سری لنکا سے ہار جاتا ہے یا میچ ملتوی ہو جاتا ہے تو وہ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سپر 8 کے دیگر گروپ میں انگلینڈ نے پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے جگہ یقینی بنا لی ہے، اس لیے پاکستان کے امکانات اب اپنے آخری میچ اور نیٹ رن ریٹ پر منحصر ہیں۔دریں اثنائ۔لاہور(سپورٹس نیوز) مینز ٹی20ورلڈ کپ 2026 ء کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی پرسوالات اٹھ گئے۔میچ کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔سابق کپتان محمد حفیظ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ پاکستان کی ناکامی کی وجہ صرف یہ میچ نہیں بلکہ پورے ٹورنامنٹ میں حکمتِ عملی کی غلطیاں رہیں۔سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے ہیری بروک کی قیادت اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروک نے فرنٹ سے لیڈ کیا اور انگلینڈ کو سیمی فائنل میں پہنچایا، جبکہ پاکستان کا رولر کوسٹر جاری ہے۔سابق کپتان شعیب ملک کا کہنا تھا کہ جدید کرکٹ کھیلنے کے دعوے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک بنیادی مہارت، گیم اویرنیس اور نظم و ضبط کو بہتر نہ بنایا جائے، بنیاد مضبوط کئے بغیر جدید انداز اپنانا ایسے ہے جیسے نرسری پڑھے بغیر دسویں جماعت کا امتحان دینا۔سابق بھارتی فاسٹ بالر مناف پٹیل نے ہیری بروک کی اننگز کو سراہے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مکمل بالنگ اٹیک کی کمی اور کمزور فیلڈنگ سے نقصان اٹھانا پڑا۔سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے ٹورنامنٹ کی کنڈیشنز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں امکان ہے کہ کوئی بھی برصغیر کی ٹیم سیمی فائنل تک نہ پہنچ سکے۔پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر احمد شہزاد نے ٹیم کی حکمتِ عملی اور پلیئنگ الیون پر سخت تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ انگلینڈ اپنی بہترین فارم میں نہیں تھا اور پاکستان کے پاس سنہری موقع تھا، لیکن ناقص منصوبہ بندی، غلط شاٹ سلیکشن اور کنفیوز پلیئنگ الیون کے باعث میچ ہاتھ سے نکل گیا۔احمد شہزاد نے انفرادی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم کی 24 گیندوں پر 25 رنز کی اننگز نے رفتار کم کی، شاداب خان نے مڈل اوورز میں مہنگی بالنگ کی، صائم ایوب خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے، ابرار احمد کو ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا۔پاکستان کی اس شکست کے بعد سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں مزید مشکل ہوگئی ہیں، جبکہ ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اور تنقید کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں