تیل کی قیمتوں میں مزیداضافہ

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مال بردار جہازوں کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بھی بڑھ گئیں۔برینٹ کروڈ 1.70 ڈالر اضافے کے بعد 79.44 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ سیشن کے دوران یہ 82.37 ڈالر کی سطح بھی چھو گیا جو جنوری 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.17 ڈالر اضافے کے ساتھ 72.40 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ماہرین کے مطابق فوری کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع طویل ہوا تو قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب ایران خطے میں توانائی کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتا ہے۔کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب Strait of Hormuz کے بارے میں ایرانی میڈیا نے دعوی کیا کہ اسے بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عالمی تیل اور گیس کا تقریبا 20 فیصد اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس کے باعث سپلائی میں تعطل کے خدشات شدید ہو گئے ہیں۔ کئی آئل ٹینکرز اور کنٹینر بردار جہازوں نے راستہ بدل لیا ہے جبکہ انشورنس کمپنیوں نے کوریج بھی منسوخ کر دی ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کچھ وقت لے سکتی ہے مگر برسوں تک جاری نہیں رہے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک تنازع برقرار رہے گا، منڈیوں میں بے یقینی چھائی رہے گی۔ادھر سعودی عرب نے ڈرون حملے کے بعد اپنی سب سے بڑی آئل ریفائنری عارضی طور پر بند کر دی، جس سے ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتیں بھی اوپر چلی گئیں۔ امریکی ڈیزل فیوچرز دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے جبکہ یورپی گیس آئل میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ایک عالمی بروکریج ادارے نے 2026 کے لیے برینٹ خام تیل کی متوقع قیمت 65 ڈالر سے بڑھا کر 80 ڈالر فی بیرل کر دی ہے، جبکہ شدید اور طویل جنگ کی صورت میں قیمتیں 120 سے 150 ڈالر تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں