امریکہ کی اجازت سے روسی تیل کی خریداری،بھارتی خودمختیاری کا پردہ چاک

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) روس سے تیل کی خریداری کی عارضی امریکی اجازت نے بھارت کی نام نہاد خودمختار پالیسی کا پردہ چاک کردیا، امریکہ بھارت تجارتی معاہدے کے بعد نااہل مودی کو ملک کی معاشی خودمختاری داو پر لگانے کا ذمہ دار ٹہرایا جارہا ہے۔کانگریسی رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ کیا اب امریکہ فیصلہ کرے گا کہ ہم نے کس سے تیل خریدنا ہے ؟چٹا پور سے کانگریسی ایم ایل اے پریانک کھڑگے نے ایکس پر پیغام میں مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکی سیکرٹری خزانہ بھارت کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دینے والے کون ہوتے ہیں؟بھارتی حکومت ہر امریکی حکم پر کیوں جھک رہی ہے؟۔پریانک کھڑگے نے مزید کہا کہ بی جے پی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو مذاق بنا دیا،مودی حکومت کو کچھ حوصلہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ماہرین کے مطابق کے مطابق معرکہ حق میں شکست کے سٹریٹیجک اثرات عام بھارتی شہری تو محسوس کررہا ہے مگر بھارتی حکومتی حلقے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباو سے بچنے کیلئے بھارت کو اپنی توانائی پالیسی اور خودمختاری پر مسلسل سمجھوتہ کرنا پڑرہا ہے۔ماہر ین نے کہا کہ اگر بنیادی معاشی فیصلے بھی امریکہ کی منظوری سے مشروط ہیں تو یہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور خودمختاری پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہیں۔یاد رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے خلیجی جنگ کے پیش نظر بھارت کو 30 روز کیلئے روس سے تیل کی خریداری کی اجازت دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں