روزے کے دوران ہائی بلڈ پریشر سے کیسے بچیں؟

اسلام آباد (بیوروچیف) رمضان کے پورے روزے رکھنا ایک روحانی سرگرمی ہے جسے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہر شخص کے لیے برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔وہ لوگ جو دن میں روزہ رکھتے ہیں اور اپنے کھانے اور سونے کے نظام الاوقات میں ردوبدل کرتے ہیں وہ بلڈ پریشر میں تبدیلی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔رمضان المبارک میں روزے کے باعث کھانے پینے کے اوقات، پانی کی مقدار اور روزمرہ معمولات میں نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہائی بلڈ پریشر (ہائیپر ٹینشن) کے مریضوں کو اپنی صحت کے حوالے سے خاص احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بلڈ پریشر متوازن رہے اور کسی پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ رمضان میں ادویات کے استعمال کے معمولات کو منظم رکھنا انتہائی اہم ہے۔ مریضوں کو چاہیے کہ دوا کے اوقات میں بلا ضرورت تبدیلی نہ کریں۔ بعض ماہرین کے مطابق افطار کے فورا بعد دوا لینے کے بجائے تراویح کے بعد دوا لینا زیادہ مثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کسی دن دوا لینا بھول جائیں تو اگلی خوراک دوگنی کرنے سے گریز کریں اور معمول کے مطابق اگلے دن دوا استعمال کریں۔غذائی عادات بھی بلڈ پریشر کو متاثر کرتی ہیں۔ زیادہ نمک والی غذائیں بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے سحر اور افطار کے دوران چپس، پراٹھے، چٹنیاں اور دیگر نمکین اشیا کم سے کم استعمال کریں۔ اس کے بجائے تازہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔پانی کی کمی بھی ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ افطار سے سحر کے درمیان مناسب مقدار میں پانی پیا جائے اور کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی استعمال کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔اسی طرح کم چکنائی والا دودھ (لو فیٹ دودھ) بھی بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں چکنائی کم اور غذائیت زیادہ ہوتی ہے، جو دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔رمضان کے دوران ذہنی دبائو سے بچنا بھی ضروری ہے۔ اسٹریس بلڈ پریشر کو بڑھا سکتا ہے، اس لیے مراقبہ، گہری سانسیں اور عبادات ذہنی سکون فراہم کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔افطار کے وقت کھانے کا آغاز کھجور اور پانی سے کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے، اس کے بعد ہلکی اور متوازن غذا استعمال کی جائے۔ زیادہ تلی ہوئی اور بھاری غذا بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔روزہ رکھنے کے باوجود ہلکی جسمانی سرگرمی بھی مفید رہتی ہے۔ افطار کے بعد مختصر چہل قدمی یا ہلکی ورزش بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔اس کے علاوہ مناسب نیند بھی صحت کے لیے بے حد اہم ہے کیونکہ نیند کی کمی بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح رمضان کے دوران بلڈ پریشر کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہنا بھی ضروری ہے تاکہ کسی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طبی مشورہ لیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق اگر مریض احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں تو رمضان کے روزے بغیر کسی بڑی پریشانی کے رکھے جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں