جاری کشیدگی’ پاکستان کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے معاشی استحکام اور عوام کیلئے ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے’ حالیہ عالمی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام قائم کرنے کیلئے بروقت بنائی گئی کمیٹی کے فیصلوں کی بدولت عوام کے لیے تیل کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی، انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی اور اس معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے اپنی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں عالمی سطح پر کشیدگی کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیراعظم نے کہا حکومت کے بروقت قومی سطح پر کفائت شعاری اور بچت کیلئے اقدامات کا نفاذ ہو چکا اور مزید کام جاری ہے اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں موجود تیل کے ذخائر فیول کی مانگ پوری کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات اور عوام کو عالمی کشیدگی کے پیش نظر ریلیف دینے کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ حکومت پاکستان تیل کی متعین قیمت پر فروخت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے وزیراعظم کی ہدایت پر پٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی بنانے اور اس معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت خوش آئند ہے اس اقدام سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلیک مارکیٹنگ کا نہ صرف خاتمہ ممکن ہو گا بلکہ کسی بھی جگہ پر مقررہ نرخوں سے زائد پیسے لینے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی بھی ہو گی تھرڈ پارٹی کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے وزیراعظم کو ایک بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے لہٰذا عوام اس حوالے سے مطمئن رہیں انہیں مقررہ نرخوں پر تیل کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد پٹرولیم ایجنسیوں کی جانب سے ذخیرہ کرنے کے ممکنہ خدشہ کے پیش نظر حکومت نے کمیٹیاں بنائی ہیں جو صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے صارفین کیلئے پاک ایپ کے ذریعے زائد نرخ لینے والے پٹرولیم پمپس کے بارے میں کمپلینٹ بھی کی جا سکتی ہے جو اچھا اقدام ہے حکومت نے کفایت شعاری اور بچت اقدامات بھی نفاذ کیا ہے اس کے بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے وزیراعظم موجودہ کشیدگی کے پیش نظر معاشی استحکام کیلئے بھی کوشاں ہیں آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل بردار جہازوں کو تیل کی سپلائی میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس حوالے سے ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تیل بردار جہازوں کے علاوہ دیگر ممالک کے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہو گی چونکہ اسرائیل’ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے لہٰذا اس تناظر میں ایران کی قیادت کا فیصلہ دونوں ملکوں کے خلاف ہی ہو سکتا ہے امریکی صدر آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث نیٹو ممالک سے مدد طلب کر رہے ہیں مگر برطانیہ’ فرانس اور دیگر کئی ممالک نے اس حوالے سے ان کی مدد سے انکار کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت ٹرمپ مشکلات میں پھنس چکے ہیں امریکہ میں ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی کمی دیکھی گئی ہے اسرائیل کی حمایت کرنے اور ایران کے خلاف محاذ کھولنے پر امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ٹرمپ پر تنقید کی جا رہی ہے نیٹو ممالک کی طرف سے مدد نہ ملنے پر بھی ٹرمپ کو سبکی کا سامنا ہے اور ٹرمپ نے واضح کہا کہ اگر نیٹو ممالک نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے مدد نہ کی تو مستقبل میں بہت مشکلات پیش آ سکتی ہیں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ جن خلیجی ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے موجود ہیں ان پر بھی میزائل حملے کئے ہیں اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران’ اسرائیل امریکہ جنگ بند کرانے کیلئے او آئی سی میں یہ معاملہ رکھ کر اس کا قابل قبول حل نکالا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی میں کمی ہو اور امن قائم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں