یادداشت بہتر بنانیکا آسان طریقہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) یادداشت ایک غیر مستحکم چیز ہے، مثال کے طور پر ہوسکتا ہے کہ آپ کو ایک دہائی قبل پیش آنے والا ایک واقعہ تو یاد ہو مگر یہ بھول گئے ہوں کہ گزشتہ ہفتے کسی رات کو کیا کھانا کھایا تھا۔یا آپ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھول جاتے ہوں جیسے چابیاں کہیں رکھ کر بھول گئے، ایک میسج پڑھا مگر جواب دینا بھول گئے یا کسی سے ملاقات کا وعدہ کرکے بھول گئے۔ہر فرد ہی باتیں بھولتا ہے مگر جب ایسا اکثر ہونے لگے تو پھر ضرور ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجنی چاہیے۔مگر اچھی بات یہ ہے کہ ہر عمر میں یادداشت کو مستحکم رکھنا بہت آسانی سے ممکن ہے۔بس روزانہ 20 منٹ کی جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنالیں۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔جرنل برین کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مختصر وقت کی جسمانی سرگرمیوں سے دماغی سرگرمیوں میں تبدیلیاں آتی ہیں اور ایسی لہریں متحرک ہوتی ہیں جو دماغ کو زیادہ مثر انداز سے تفصیلات کا تجزیہ اور ذخیرہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔اس تحقیق میں 17 سے 50 سال کی عمر کے 14 افراد کو شامل کیا گیا جن کے سروں میں مرگی کے علاج کے لیے الیکٹروڈز کو نصب کیا گیا تھا۔14 افراد کو روزانہ 20 منٹ تک مناسب رفتار سے سائیکل چلانے کی ہدایت کی گئی۔محققین نے دریافت کیا کہ ورزش کے بعد دماغی لہریں زیادہ متحرک ہوتی ہیں اور یہ لہریں دیگر دماغی خطوں تک پہنچتی ہیں جو تجزیہ کرنے اور تفصیلات یاد کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ واضح ہے کہ جسمانی سرگرمیوں سے ہر عمر میں یادداشت کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ حیران کن دریافت یہ نہیں کہ ان لہروں سے دماغ میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں بلکہ یہ چیز ہے کہ کس طرح ورزش دماغی اسٹرکچر پر اثر انداز ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ بہت زیادہ دورانیے تک سخت ورزش کی ضرورت نہیں درحقیقت 20 منٹ کی ورزش سے ہی یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔محققین کے مطابق مختصر ورزش سے ہی دماغ کی چیزوں کا تجزیہ کرنا یا یادوں کو دہرانے کی صلاحیت عارضی طور پر بڑھ جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں