آپریشن غضب للحق عارضی طور پر معطل (اداریہ)

پاکستان نے افغانسان میں دہشت گردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عید کے احترام میں برادر اسلامی ملک سعودی عرب ترکیہ اور قطر کی درخواست پر 5روز کارروائی رکی رہے گی تاہم جنگ بندی کے دوران حملہ ہوا تو دوبارہ شدت سے آپریشن ہو گا جبکہ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کابل میں اصل ٹارگٹ افغان طالبان کے گولہ بارود ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا سویلینز کی ہلاکت کا پراپیگنڈہ جھوٹ ہے طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں سویلین لباس پہنتے ہیں پاکستان افغان طالبان سے مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن پہلے دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کریں۔ دوسری جانب پاکستان کی طرف سے کارروائی روکنے پر افغان طالبان کا بھی پاکستان پر حملے نہ کرنے کا اعلان’ افغان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ جنگ نہیں سفارت کاری سے معاملہ حل کرنے کی کوشش ہے وفاقی وزیر عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے عارضی طور پر آپریشن معطل کرنے کا اقدام نیک نیتی اور اسلامی اقدار کے مطابق کر رہا ہے تاہم کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کی صورت میں آپریشن دوبارہ شروع کر دیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے دہشت گردوں کو اپنے پاس چھپا کر رکھا ہوا ہے حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں پاکستان بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن پہلے دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کیا جائے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ دنیا کو پتہ ہونا چاہیے کہ افغان طالبان نے صومالیہ کی الشباب کو دعوت دی ہے کہ افغانستان آ جائیں آپکو جگہ دیتے ہیں افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کا مرکز بنا ہوا ہے پاکستان نے ان کا راستہ روکا ہوا ہے یہ صرف پاکستان کے عوام کی جنگ نہیں یہ خطے اور پوری دنیا کی جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی نے کابل میں افغان رجیم کے اسلحے کے ذخیرے اور ڈرون اسٹوریج کو نشانہ بنایا جو پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں استعمال ہو رہا تھا یہ کارروائی بھی افغان طالبان کے ان 53حملوں کے جواب میں کی گئی جو انہوں نے کیا ہے پاکستان نے جواب دیا ہے ہم دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرتے ہیں تو یہ اپنی ملیشیا لیکر وہاں پہنچ جاتے ہیں ہم نے ان کی 81لوکیشنز پر اسٹرائیک کی ہیں اور سارے حملے دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والے انفراسٹرکچر پر کئے ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ گولہ بارود پھٹنے سے جو دھماکے ہوئے انہیں پورے شہر نے دیکھا طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون افغان طالبان کو بھارت فراہم کر رہا ہے انہوں نے کہا پاکستان کی افغان عوام سے کوئی لڑائی نہیں انہیں تو خود دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے، علاوہ ازیں آپریشن غضب للحق کے دوران گزشتہ روز تک فتنہ الخوراج افغان طالبان کے 307دہشت گرد ہلاک اور 938سے زائد زخمی ہوئے افغان طالبان کی 255 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 44پوسٹوں پر قبضہ کا گیا اسی طرح 237ٹینک بکتر بند گاڑیوں اور توپیں تباہ کی گئیں افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے 81مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طریقہ سے نشانہ بنایا گیا،، آپریشن غضب للحق نے افغان طالبان کی سرپرستی میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے اسلحہ وڈرون ڈپو کو تباہ کر کے ان کو یہ انتباہ کیا ہے اگر وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی سے باز نہ آئے تو ان کو بھرپور جواب ملے گا،، پاکستان نے عید کے احترام میں برادر ملکوں سعودی عرب’ ترکیہ اور قطر کی درخواست پر 5روز کے لیے آپریشن غضب للحق کی کارروائی روکی ہے بہتر یہی ہے کہ افغان طالبان اس دوران کوئی شر انگیزی نہ کریں ورنہ ان کو کہیں بھی چھپنے کو جگہ نہیں ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں