امن مذاکرات کیلئے پاکستان کی قابل تعریف کوششیں (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور قطر کے امیر عز مآب شیخ تمیم بن حمدالثانی سے فون پر رابطہ کر کے پاکستان کی جانب سے خلیج میں کئے جانے والی امن کوششوں کے حوالے سے اعتماد میں لیا شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی امن کوششوں کی تعریف کی اور قریبی روابط رکھنے پر اتفاق کیا وزیراعظم نے موجودہ صورتحال میں سعودی عرب اور قطر کے غیر معمولی تحمل کو سراہا، امیر قطر نے بھی پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی تعریف کی وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی برادر عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا، دوسری جانب شہباز شریف سے بلاول بھٹو نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اس موقع پر دونوں راہنمائوں نے خلیج کی صورتحال اور ملکی ترقی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا دوسری جانب وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملکی ضروریات کو متاثر کئے بغیر کھانے پینے کی اشیاء کی خلیجی ممالک کو برآمد کیلئے تیزی سے کام کیا جائے فیصلہ سازی میں تاخیر قابل قبول نہیں۔ وزیراعظم کی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات کی خوشگوار گفتگو کے دوران سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی پاکستان کی جانب سے شدید مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر اس مشکل وقت میں مملکت اور اس کے عوام کیلئے پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ مملکت سعودی عرب اور برادر عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا جس طرح انہوں نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے وزیراعظم نے فوری طور پر جنگ کے خاتمے اور صورتحال کے معمول پر آنے پر زور دیا تاکہ علاقائی صورتحال کو مستحکم کیا جا سکے انہوں نے امت کی صفوں میں اتحاد اور ہم آہنگی پر زور دیا جس کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے علاوہ ازیں وزیراعظم نے بدھ کی شام قطر کے امیر سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران خطے میں جاری جنگ پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا انہوں نے قطر اور دیگر برادر خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کی شدید مذمت کی اور اس مشکل وقت میں پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا یقین دلایا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے مسلسل تمام فریقوں سے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کرنے پر زور دیا،، مشرق وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی’ بے یقینی اور طاقت کے توازن کی کشمکش میں گھرا ہوا ہے ایسے نازک وقت میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کو امن مذاکرات کے ممکنہ میزبان کے طور پر پیش کرنا نہ صرف ایک سفارتی پیش رفت ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے عالمی سیاست کے اس پیچیدہ منظرنامے میں جہاں تصادم کے سائے گہرے ہو رہے ہیں وہاں مکالمے کی راہ ہموار کرنا کسی بھی ملک کے لیے ایک بڑا امتحان ہوتا ہے اگر اسلام آباد اس نازک مرحلے پر غیر جانبدار متوازن اور مؤثر کردار کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف اس کی عالمی ساکھ مضبوط ہو گی بلکہ خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو بھی نئی جہت ملے گی پاکستان ماضی میں بھی افغان امن عمل سمیت مختلف مواقع پر ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے اور اب ایک بار پھر اسے تاریخ نے ایک اہم ذمہ داری سونپی ہے یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی پائیدار امن صرف بات چیت’ باہمی احترما اور مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے اگر تمام فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو بعید نہیں کہ اسلام آباد سے ایک نئی امن داستان کا آغاز ہو، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں