مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ مذاکرات سے ممکن (اداریہ)

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال اگرچہ پاکستان کی براہ راست جنگ نہیں تاہم اس کے اثرات کسی جنگ سے کم نہیں اور حکومت ہر سطح پر بھرپور اور موثر اقدامات کر رہی ہے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمہ کیلئے پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ملکی قیادت کی کاوشیں انتہائی اہمیت کی ہامل ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر’ نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ خطے میں قیام امن کیلئے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں” پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمہ کیلئے واقعی کلیدی کردار نمایاں ہے وزیراعظم شہباز شریف’ نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا اس حوالے سے اہم کردار ہے، ایران پر امریکہ اور صہیونی ریاست کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے فی الحال اس میں کمی کے بظاہر آثار نظر نہیں آ رہے پاکستان ایران امریکہ جنگ کے خاتمہ کیلئے خلیجی ریاستوں سے رابطے میں ہے گزشتہ روز اسلام آباد میں خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کی بیٹھک بھی ہوئی جس میں موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اگر پاکستان ایک مؤثر ثالث یا بیک چینل سہولت کار کے طور پر ابھرتا ہے تو یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مقام اور وقار کی ایک بڑی علامت ہے یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب اسے ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد ریاست اور پارٹنر کے طور پر دیکھ رہی ہیں پاکستان کی موجودہ پوزیشن کا پہلا نکتہ اس کی جغرافیائی اور سٹریٹجک اہمیت اسکی قوت کا بنیادی ستون ہے ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد بحرہند تک رسائی اور وسطی ایشیا کے گیٹ وے کے طور پر ثالث بناتا ہے امریکہ اور ایران دونوں جانتے ہیں کہ پاکستان کے بغیر مشرق وسطی کی کوئی بڑی ڈیل مکمل نہیں ہو سکتی پاکستان کی فوجی قیادت کی پیشہ وارانہ حیثیت اور تجربہ اس کی سفارتی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے علاقائی اتحادوں کو استعمال کیا ترکیہ مصر اور پاکستان کی مشترکہ کوششیں ایک نئی مڈل پاور بلاک کی صورت اختیار کر رہی ہیں یہ تینوں ممالک او آئی سی غزہ اور ریڈسی کے مسائل میں فعال ہیں اور ایران کے لیے قابل قبول ہیں ٹرمپ نے فیلڈ مارشل قرار دیا ہے پاکستان کی سفارتکاری کا عالمی سطح پر ڈنکا اور چرچا پاکستان کیلئے ایک موقع بھی ہے آج دنیا پاکستان کو امن کے معمار کے طور پر دیکھ رہی ہے یہ ہماری قوم کی اجتماعی قربانیوں’ محنت اور حکمت کا صلہہ ہے اب جبکہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے کوشاں ہے اور کوشش کر رہا ہے کہ ثالث کی حیثیت سے اس کام کا کریڈٹ حاصل کرے اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب فریقین مذاکرات کیلئے اکٹھے ہوں اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے اہم ترین مسئلہ کا حل نکالا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں