لاہور(بیوروچیف)پاکستان ریلویز میں ٹرینوں کے حادثات معمول بن گئے، حادثات کے بڑھتے واقعات کی روک تھام میں ریلوے انتظامیہ ناکام ہو گئی ۔اعداد وشمار کے مطابق پاکستان ریلویز کی جانب سے نجی کمپنیوں کے اشتراک سے چلائی جانے والی ریل گاڑیوں کے حادثات میں کمی نہ آ سکی، حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ مسافر ٹرینوں کے ساتھ ساتھ مال بردار ٹرینوں کا پٹڑیوں سے اترنا معمول بن گیا ہے۔بڑھتے حادثات سے مین لائن پر چلنے والی ٹرینوں کا شیڈول بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہ، خیبرپختونخوا سے لیکر سندھ تک چلنے والی درجنوں مسافر اور مال بردار ریل گاڑیوں کی روانگی میں کئی کئی گھنٹے تاخیر معمول بن چکی ہے۔ریلوے ذرائع کے مطابق یکم جنوری سے لے کر اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹڑیوں سے اترنے اور پہلے سے کھڑی ریل گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے سمیت مختلف نوعیت کے 20سے زائد حادثے رونما ہو چکے ہیں جن میں تین افراد جان بحق اور سیکڑوں مسافر زخمی ہوئے جبکہ حادثات کی وجہ سے پاکستان ریلوے کے انفرا اسٹرکچر کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ٹرینوں کے پے درپے حادثات سے ریلوے کے سیفٹی مینٹنس نظام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ٹرینوں کے ہونیوالے حادثات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ،ابتدائی رپورٹ میں ٹرین آپریشن سے متعلقہ ریلوے ملازمین کو حادثات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ ترجمان پاکستان ریلویز نے کہا ہے کہ سفر کو محفوظ بنانے کیلئے سیفٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا بلکہ سیفٹی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کیلئے نیا ڈائریکٹوریٹ بنا دیا گیا ہے جہاں قابل ترین افسران اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق خستہ حال ٹریک پر انجینئرنگ پابندیاںبھی لگائی گئی ہیں، رہی بات ریلوے ملازمین کی نااہلی اور بدانتظامی کی تو ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے اور باقاعدہ تحقیقات ہوتی ہیں جس کے بعد ذمہ داروں کو سزائیں بھی دی گئی ہیں اور جیل بھی گئے۔




