پاکستان کی معیشت تیزی سے استحکام کی طرف گامزن (اداریہ)

گورنر اسٹیٹ بنک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالی سال کے آغاز میں پاکستان کے کلیدی معاشی اظہاریعے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے مشرق وسطیٰ کا تنازع سے قبل معیشت مستحکم کر لی تھی مہنگائی اوسطاً 5.7 فی صد رہی کرنٹ اکائونٹ بیلنس سرپلس رہا زرمبادلہ کے ذخائر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے عہدیداروں سے ملاقات میں گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جاری نازعات نے نئے خطرات کو جنم دیا اور معاشی منظرنامے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا ہے تاہم ان ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے معیشت گزشتہ بحرانی اقساط کی نسبت بہتر پوزیشن میں ہے۔ اسٹیٹ بنک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار امریکہ میں معروف عالمی مالی اور سرمایہ کاری کے اداروں بشمول جے پی مورگن’ بارکلینر’ سٹی بینک’ جیفریز اور فرنیکلن ٹیمپلٹن کے ساتھ ساتھ فچ’ موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل جیسی بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتوں میں کیا جن کا اہتمام 13 تا 18 اپریل 2026 تک آئی ایم ایف عالمی بینک کی اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر کیا گیا گورنر اسٹیٹ بنک نے آئی ایم ایف اور عالمی بنک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں گورنر اسٹیٹ بنک نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اسٹیٹ بنک کی مسلسل خریداری اور سرکاری رقوم کی آمد’ بشمول نئے دوطرفہ انتظامات کے تحت جون 2026ء تک یہ توقع ہے کہ اسٹیٹ بنک نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اسٹیٹ بنک کی مسلسل خریداری اور سرکاری رقوم کی آمد’ بشمول نئے دوطرفہ انتظامات کے تحت جون 2026ء تک یہ توقع ہے کہ اسٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھ کر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے گورنر نے وضاحت کی کہ بہتر معاشی استحکام نے معاشی نمو کی بتدریج پائیدار’ وسیع البنیاد بحالی میں اپنا کردار ادا کیا مالی سال 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران حقیقی جی ڈی پی وسیع البنیاد اضافے سے بڑھ کر 3.8 فیصد تک پہنچ گئی جو گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 1.8فیصد درج کی گئی تھی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محتاط پالیسی سمت کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے ابتدائی حالات بیرونی دھچکوں کے پچھلے ادوار جیسا کہ 2022ء کے اوائل میں روس یوکرین تنازع کے مقابلے میں آج نمایاں طور پر مضبوط ہیں گورنر جمیل احمد نے کہا کہ بہتر ابتدائی حالات کی وساطت سے معیشت کی صورت حال مضبوط رہی تاہم اسے اب مشرق وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ پیش رفتوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں توانائی کی عالمی قیمتوں اور با ببرداری اور بیمہ اخراجات میں بڑی حد تک اضافہ شامل ہے گورنر اسٹیٹ بنک نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسٹیٹ بنک اور حکومت قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے پرعزم ہیں اور معاشی استحکام کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کریں گے گورنر اسٹیٹ بنک نے اپنے دورے کے دوران ترسیلات زر اور روشن ڈیجیٹل اکائونٹ روڈ شو میں پاکستانی تارکین وطن اور متعلقہ عالمی فریقوں سے بھی ملاقات کی،، گورنر اسٹیٹ بنک جمیل احمد کا ملکی معیشت کے مستحکم ہونے کا اظہار خیال خوش آئند ہے گورنر نے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتوں کے دوران ملکی معیشت کو تیزی سے استحکام کی طرف گامزن ہونے کی نوید سنائی ملکی زرمبادلہ میں اضافہ کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر کا بھی اہم کردار ہے، آئی ایم ایف’ ورلڈ بنک سمیت دیگر عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں جبکہ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں بھی تواتر کے ساتھ پاکستان کی معاشی صورتحال کو اطمینان بخش قرار دے رہی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان بہت جلد اپنے معاشی مسائل پر قابو پا لے گا، انشاء اﷲ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں