شیکسپیئر کے گھر کا400سال بعد پتہ چل گیا

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) انگریزی ادب کے معروف شاعر و مصنف ولیئم شیکسپیئر کا طویل عرصے سے گمشدہ گھر آخر کار 400 برس بعد تلاش کرلیا گیا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مورخین سالوں سے اس سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ ولیئم شیکسپیئر کی رہائش کہاں تھی جب ان کی شہرت عروج پر تھی اور ان کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال یہ بھی تھا کہ وہ اپنے آبائی گھر صرف ریٹائر ہونے کے لیے واپس گئے تھے۔شیکسپیئر سے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام کے دوران بلیک فریئرز میں ایک جائیداد کے مالک تھے لیکن ان کے گھر کا مکمل پتہ کسی کو معلوم نہ ہوسکا تھا۔رپورٹس کے مطابق بلیک فریئرز کی ایک پرسکون گلی کے قریب 19 ویں صدی میں تعمیر کی گئی ایک عمارت پر لگی نیلے رنگ کی تختی ولیئم شیکسپیئر کے گھر کی نشاندہی کرتی ہے اور اس حوالے اب کچھ نئے شواہد کا انکشاف ہوا ہے، یہ نئے شواہد ایک پروفیسر کی لندن کے دو پلے ہاسز پر تحقیق کے درمیان سامنے آئے ہیں۔پروفیسر کو تحقیق کے دوران 3 دستاویزات ملیں، 2 دستاویزات لندن آرکائیوز سے ملیں اور 1 دی نیشنل آرکائیوز سے ملی ہے، ان دستاویزات سے ناصرف ولیئم شیکسپیئر کی 1613 میں خریدی گئی جائیداد کے صحیح مقام بلکہ ترتیب اور سائز کا بھی پتہ چلتا ہے۔رپورٹس کے مطابق ان دستاویزات میں سے ایک میں بلیک فریئرز کے علاقے میں 1668 میں بننے والے ایک منصوبے کا ذکر موجود ہے۔ریکارڈز میں جس منصوبے کا ذکر موجود ہے وہاں پہلے ایک ایل کی شکل میں بنی ایک بڑی عمارت تھی، جو کہ تھیٹر اور پب سے قریب تھی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ عمارت آگ لگنے سے تباہ ہو گئی تھی۔ریکارڈ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آگ لگنے کے المناک واقعے سے 1 سال پہلے 1665 میں ولیئم شیکسپیئر کی پوتی الزبتھ ہال نیش برنارڈ نے اس جائیداد کو فروخت کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں