توانائی بحران کے خاتمہ کیلئے کوششوں کی ضرورت ناگزیر (اداریہ)

ملک میں ایک بار پھر لوڈشیڈنگ کا عذاب آ گیا ہے شہروں اور دیہی علاقوں میں کئی گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے گرمی بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ بھی بڑھتی جا رہی ہے کاروبار زندگی متاثر شہریوں کی رات کی نیندیں اچاٹ ہو گئیں توانائی بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کا حد سے زیادہ انحصار درآمدی تیل پر ہے پاکستان میں بجلی کئی طریقوں سے پیدا کی جاتی ہے جس کیلئے ایل این جی’ ہائیڈروپاور’ فرنس آئل’ فوسل فیول’ کوئلہ’ ہوا’ سولر اور بائیوگیس سمیت دیگر وسائل استعمال کئے جاتے ہیں اس میں سے 46فیصد بجلی پاکستان کے مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بنائی جاتی ہے جبکہ 54 فیصد کیلئے گیس تیل اور کوئلہ دوسرے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل کے مہینے میں لوڈشیڈنگ کی وجہ ایران امریکہ کے درمیان تنازع کے بیچ پاکستان میں درآمدی ایل این جی کی سپلائی میں پڑنے والی مبینہ رکاوٹ ہے حکومت مہنگی بجلی پیدا نہیں کر رہی جسکی وجہ سے یہ طلب پوری نہیں ہو رہی آنے والے دنوں میں اگر بجلی کا شارٹ فال مزید بڑھا تو لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہو سکتا ہے اگرچہ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیک آورز میں دو ڈھائی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے مگر حقیقت میں بجلی اس سے کہیں زیادہ جا رہی ہے موجودہ صورتحال کو دیکھے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ توانائی بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے کیونکہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ لوگ اے سی کا استعمال بھی زیادہ کر دیں گے اور بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو گا، بجلی کی کمی کا حل نکالنے کیلئے سولر پاور کے ذریعے بجلی مین لائن کو ملنے کے باوجود بھی توانائی بحران پیدا ہونا غور کرنے والی بات ضرور ہے توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت کو شمسی توانائی’ ہوا’ اور ہائیڈرو پاور جیسے سستے اور مقامی ذرائع کو ترجیح دینا چاہیے تھا لیکن اس کے بجائے حکومت نے سولر لگانے کی حوصلہ افزائی کنے کے بجائے سولر والوں کو بھی ٹیکس میں جکڑنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے لوگوں نے سولر لگوانا بند یا کم کر دیئے اس طرح بجلی کی طلب میں مزید اضافہ ہوا پاکستان میں توانائی کا بحران کسی اچانک آنے والے طوفان کی طرح نہیں ہے بلکہ آہستہ آہستہ پھیلنے والی دیمک ہے جو معیشت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے کارخانے بند ہوتے جا رہے ہیں مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑتے جا رہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے اس صورحال پر کنٹرول کرنا وقت کی ضرورت ہے آج کی دنیا میں جنگ تجارت توانائی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں میں لڑی جا رہی ہے حکومت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ پاکستان کیلئے سولر انرجی اب ترجیح یا انتخاب کا معاملہ نہیں رہا بلکہ مجبوری بن چکا ہے کیونکہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی درآمدی بل کا تقریباً ایک تہائی حصہ پٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے جو بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر سب سے بڑا دبائو ہے اگر تیل پر ہی انحصار برقرار رکھا گیا تو اس دبائو میں مزید اضافہ ہو گا جو زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی کا سبب بنے گا اس صورتحال میں حکومت کو گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر پینلز کی تنصیب کی حوصلہ افزائی کیلئے واضح پالیسی بنانی چاہیے بجلی بنانے کیلئے سولر لگانے والوں کو بلاسود آسان شرح پر قرضوں کی فراہمی کے علاوہ ترغیبات دینے پر غور کرنا چاہیے حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان میں توانائی کا بحران محض بجلی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کی کمزوری اور ترجیحات کی شکست کا آئینہ ہے دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے مگر ہم ابھی تک اس حوالے سے سوچ بچار میں لگے ہیں خدارا! توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے فوری فیصلے کئے جائیں ورنہ صورتحال کو کنٹرول کرنا دشوار ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں