انسان، عقل اور اختیار کا استعمال

انسان دراصل لطیف اور کثیف صفات کا مجموعہ ہے جب کثافت لطافت پر غالب آجاتی ہے تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے وہ عہدوپیمان بھول جاتا ہے یہاں تک کہ اپنا انسان ہونا بھی بھول جاتا ہے اور بسا اوقات تو خدا بن بیٹھتا ہے، اس کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے اور انسان انسان کے خون کا پیاسا ہو جاتا ہے، وہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتا ہے اور اس کا اپنی زبان پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے جو کچھ منہ میں آتا ہے کہے چلا جاتا ہے بڑھکیں، دھمکیاں، دعوے، توتکار، انکار اور بالآخر یوٹرن۔ وہ اس حقیقت کو بالکل بھول جاتا ہے کہ اس کا اس کے بعد واپسی کا سفر ہزیمت اور ناکامی کا نتیجہ ہوتا ہے اسی لئے دانا اور سیانے لوگ قدم اٹھانے سے پہلے نتائج پر غور کرتے ہیں اور بعض امور میں اٹھے ہوئے پاوں کو روک کر واپس اس لئے رکھ لیتے ہیں کہ کہیں منہ کی نہ کھانی پڑجائے اور بندہ دنیا کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہ جائے۔ انسان کے پاس اصل تو منہ ہی ہے جس کو دیکھ کر دنیا کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کرتی ہے، اس شخص کی طرف متوجہ ہوتی ہے یا پھر اس شخص کی بات غور سے سنتی ہے اور منہ کے بعد منہ میں موجود زبان کا ایک خاص کردار ہے زبان سے دشمن بھی دوست اور دوست دشمن بنائے جا سکتے ہیں۔ شاید اسی لئے یہ بیانیے بن گئے ہیں کہ آدمی چہرے مہرے سے پہچانا جاتا ہے اور بات کرنے سے پہلے بات کوتولنا چاہیئے۔ چاہتے تو ہم سب بہت کچھ ہیں لیکن چاہے جانے والے سب کو مل تھوڑا جاتے ہیں۔ لہذا کچھ پا لینا ہی صورتحال کو خراب کرنے سے بہتر ہے۔ کسی چیز کی زیادتی ویسے بھی اچھی نہیں سمجھی جاتی ہے اور سوجھ بوجھ ہی اصل چیز ہے باقی تو پھر ہڑبونگ۔ اصل اور نقل میں فرق کرنے کے لئے ہی تو شاید قادر مطلق نے دماغ عطا فرمایا ہے اور مجموعی طور پر ہم سب انسانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم دماغ کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے مسلمانوں کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ اگر ہم دماغ استعمال کرتے تو آج ہم سائنسی ایجادات کے موجد ہوتے اور دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ دماغ کا غیر معمولی استعمال کرکے بنانا تو ایٹم بم ہی ہے اور پھر اس کے بعد ہیروشیما اور ناگا ساکی کی کہانی۔ توبہ توبہ۔ یہ ہے بنیادی طور پر افراط وتفریط۔ پاکستان آج کے بین الاقوامی منظر نامے پر کیس سٹڈی ہے۔ 1974 میں دماغ کا استعمال ہوا ہے تو ایٹم بم بن گیا ہے اور گذشتہ سال 2025میں دماغ کا درست استعمال ہوا ہے تو ایٹم بم چلے بغیر ہندوستان ٹھس اور پاکستان کے وارے نیارے اور ہندوستان کا پر دھان منتری نریندر مودی آئیں بائیں شائیں ہوگیا ہے اور اس کو آج تک کانوں سے شاں شاں کی آوازیں آرہی ہیں اور غالب امکان ہے اس کی آنکھوں کے سامنے مکمل اندھیرا آچکا ہے اور اندھیرے میں محض ٹکریں ماری جا سکتی ہیں اور ٹکروں کے نتیجے میں اپنا سر پھوڑنے والی بات ہے ان حالات مین سر اونچا تو کیا ہونا ہے سرنگوں والی کیفیت ہی رہ جاتی ہے اور سرنگوں افسردگی اور نقصان کی علامت ہے۔ اب ارد گرد کے لوگوں کو سبق سیکھنا ہوگا اور پھر دنیا کے حالات بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔ ویسے بھی دنیا دارلامکانات ہے بعض اوقات چڑیاں باز مار دیتی ہیں۔ چوہا شیر کو خوبصورت طریقے سے جال میں لاتا ہے اور پھر قہقہے لگاتا ہے اور لومڑی چیتے کے انجام سے ڈر کر ہر چیز انعام میں وصول کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے اور چیتا کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ہے تو گویا اصل تو منہ ہی ہے نا۔ اس لئے کسی نہ کسی کا تو منہ رکھنا پڑھتا ہے جیسے منہ ملاحظہ۔ حالات وواقعات کے ملاحظہ سے جو بات سامنے آتی ہے وہی اصل بات ہوتی ہے بشرطیکہ بات کے اندر کوئی اور بات نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بڑا ہی دیکھ بھال کر آگے بڑھنا پڑتا ہے اور آگے بڑھ کر کھیلنا بھی استثنائی صورتحال میں ضروری ہوتا ہے۔ ضروری ضروری کام کرنا ویسے بھی ضروری ہوتے ہیں تاکہ بروقت معاملات طے پا جائیں اور کسی بھی غیر ضروری رکاوٹ سے بچا جائے۔ بچ بچا کر چلنے سے ہی ہرمز کراس ہوتی ہے یا ہوتا ہے اور فریقین کو قریب لایا جا سکتا ہے۔ محتاط رویہ اور محتاط پلے سے ہی حالات کا رخ بدلا جا سکتا ہے اور آگ اور پانی کو یکجا کیا جا سکتا ہے شیر اور بکری کو ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے کے لئے یا تو مجبور کیا جائے یا پھر قائل کیا جائے۔ مجبور کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے تاہم قائل کیا جانا ضروری بھی ہے اور اس کا امکان بھی ہے۔ دو کے درمیان جب تیسرا آجائے تو پھر رولے ای رولے اور اگر تیسرا اسرائیل ہو تو بنی بنائی گیم ختم۔ اسرائیل کا تو کچھ نہیں جائے گا۔ ایران کے خوفناک نقصان کا خطرہ ہے یا پھر امریکہ بہادر کی کرسی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ بہتر ہے دونوں ممالک پھونک پھونک کر آگے بڑھیں اور پاکستان کی سرزمین۔ محبت، اخلاص، دوستی اور اپنائیت کی سرزمین۔ ایک نئی کہانی کا آغاز کریں اور وہ کہانی ہوگی محبت کی کہانی جس سے پوری دنیا میں پیار اور آشتی کی فضا قائم ہوگی۔ خیر یہ کار خیر ہے اور اس کار خیر میں سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا یعنی حصہ بقدر جثہ۔ تاحال چین، روس، فرانس جیسے کردار۔ کیوں تذبذب کا شکار ہیں۔ شاید وہ کسی شکار کی تلاش میں ہیں اور کسی خاص وقت کے انتظار میں ہیں۔ بادی النظر میں انتظار کی گھڑیاں ختم ہو گئی ہیں اور اب ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے تاکہ کائنات کو مزید خون خرابے سے بچایا جا سکے۔ تیل کی سپلائی اور مہنگائی تو پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور جنگ کا خاتمہ ہونا۔ متفق الیہحاصلِ کلام یہ ہے کہ انسان کی اصل کامیابی نہ طاقت میں ہے اور نہ ہی بلند دعوں میں، اپنے نفس، زبان اور عقل پر قابو رکھنے میں ہے بلکہ مجموعی طور پر اپنے آپ کو قابو رکھنے میں ہیاپنا آپ دکھانے والے ایک دن دیکھتے رہ جاتے ہیں اور وقت بہت ہی گزر چکا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ غرور، جذبات اور افراط و تفریط کا شکار ہوئے، وہ بالآخر رسوائی اور ناکامی سے دوچار ہوئے، جبکہ وہی سرخرو ٹھہرے جنہوں نے صبر، تدبر اور توازن کو اپنا شعار بنایا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقتی جذبات کے بجائے دانائی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں، اپنی زبان کو لگام دیں اور عقل کو رہنما بنائیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو عزت، وقار اور حقیقی کامیابی تک لے جاتا ہے۔ٹرمپ، نیتن یاہو، خامنائی اور پوری دنیا کے سب سربراہان مملکت کے لئے لمحہ فکریہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں